سٹی بس ٹرمینل یتیم خانہ اور دیگر بس سٹینڈز پر پر مسافروں کی لمبی لائنیں، ٹکٹ بلیک میں فروخت ،حکومتی دعوے فائلوں تک محدود
لاہور ( کرائم رپورٹر ) عید اپنے آبائی گھروں میں منانے کے لئے پردیسی رْل گئے۔ سٹی بس ٹرمینل یتیم خانہ پر ٹکٹ کے حصول کے لئے مسافروں کی لمبی لائنیں لگی رہیں۔ شدید گرمی میں مرد، خواتین اور بچے کئی کئی گھنٹے خوار ہو تے رہے۔ ٹکٹ نہ ملنے پر مسافروں کی دہائیاں سننے کو ملیں۔تفصیل کے مطابق عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی پردیسیوں کی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کا سلسلہ زور پکڑ گیا ۔ لاہور کے سٹی بس ٹرمینل یتیم خانہ، لاری اڈوں اور دیگر بس سٹینڈز پر مسافروں کا رش دیدنی ہے۔ طویل قطاروں میں لگے مسافر ٹکٹ کے حصول کیلئے کئی کئی گھنٹے دھوپ میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔ بعض ٹرانسپورٹرز نے گاڑیوں کی کمی کا بہانہ بنا کر بلیک میں ٹکٹ فروخت کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ سٹی بس ٹرمینل پر جھنگ کے ٹکٹنگ بوتھ پر عملہ غائب ہے جبکہ دیگر شہروں کے ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے بھی مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔عید پر ہر سال کی طرح اس بار بھی مناسب انتظامات نہ ہونے پر شہریوں نے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔بسوں کی کمی کی وجہ سے لاہور سے دیگر شہروں کو جانے والی ٹرانسپورٹ مسافروں سے کچھا کچھ بھری ہوئی ہے ، ٹکٹوں کی عدم موجودگی پر مسافروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔دوسری طرف عیدالاضحیٰ کے موقع پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے کرایوں میں معمولی کمی کا اعلان کیا ہے۔لاہور سے کمالیہ کا کرایہ 1200 سے کم کر کے 1170 ،چیچہ وطنی کا کرایہ 1250 سے 1200 ،بوریوالہ، وہاڑی 1900 ،خیر پور، حاصل پور 2050 روپے، بہاولپور 2300 ، ملتان، خانیوال 1900 ، مظفرگڑھ، فورٹ عباس 2000 روپے، تونسہ، علی پور، راجن پور، ڈیرہ غازی خان 2350 روپے، کوٹ مٹھن 2400، سمندری 870، گوجرانوالہ 450 روپے، راولپنڈی بذریعہ جی ٹی روڈ 1400 اور موٹر وے سے 1800 روپے مقرر کر دیا گیا۔عید پر اپنے پیاروں سے ملنے کی خوشی لئے پردیسیوں کی راہ میں مسائل کا پہاڑ کھڑا ہے۔ نہ مناسب سہولیات، نہ عملہ، نہ گاڑیاں۔ حکومتی دعوے صرف فائلوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔