مہنگائی کا طوفان اور بقا کا راستہ

 افزاء احمد (معروف ماہر تعلیم)
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ مہنگائی بن چکا ہے۔ ہر گلی، کوچے، بازار اور گھر میں ایک ہی رونا رویا جا رہا ہے کہ ’’گزارا کیسے ہو؟‘‘۔ پٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ کی اشیائے خورونوش کی قیمتیں اس تیزی سے آسمان کو چھو رہی ہیں کہ سفید پوش طبقے کے لیے اپنی عزتِ نفس برقرار رکھنا مشکل ترین ہو گیا ہے۔ عوام کا یہ گلہ اور غصہ بالکل بجا ہے، کیونکہ جب بنیادی انسانی ضرورتیں بھی پہنچ سے دور ہونے لگیں تو مایوسی کا پھیلنا فطری ہے۔ لیکن بطور ماہرِ تعلیم، میرا یہ ماننا ہے کہ صرف رونے دھونے، شکوے کرنے یا حالات کو کوسنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بحران ہمیشہ نئے راستے تلاش کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم روایتی سوچ کو بدلیں اور اس معاشی طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک متوازن اور عملی حکمتِ عملی اپنائیں۔

مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلا قدم ’’طرزِ زندگی کی تبدیلی‘‘ (Lifestyle Modification) ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں دکھاوا اور اسراف ہماری رگوں میں بس چکا ہے۔ شادیاں ہوں، تہوار ہوں یا عام زندگی، ہم اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اس بحران کا پہلا حل یہ ہے کہ ہم’’ضرورت‘‘ اور’’خواہش‘‘ کے فرق کو سمجھیں،جب تک ہم برانڈز کے سحر، مہنگے ریستورانوں میں کھانے کی عادت اور بلا ضرورت خریداری پر قابو نہیں پائیں گے، ہماری آمدنی کبھی پوری نہیں پڑے گی۔ سادگی کو مجبوری نہیں، بلکہ ایک معزز طرزِ زندگی کے طور پر اپنانا ہوگا۔

’’متبادل وسائل کا استعمال‘‘بھی ایک حل ہے۔ ہمارے ہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں خامیاں ضرور ہیں، لیکن جہاں ممکن ہو، بائیک پولنگ یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرکے پٹرول کے اخراجات کو آدھا کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، بجلی کے بھاری بلوں سے بچنے کے لیے توانائی کی بچت کی عادت ڈالنا ہوگی۔ دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال، انورٹر آلات کی طرف منتقلی اور غیر ضروری لیمپ اور پنکھے بند کرنا بظاہر چھوٹی باتیں ہیں، لیکن یہ ماہانہ بجٹ پر بڑا مثبت اثر ڈالتی ہیں۔

ایک ماہرِ تعلیم ہونے کے ناطے، میں خاص طور پر’’مہارت پر مبنی تعلیم اور آمدنی کے نئے ذرائع‘‘ پر زور دوں گی۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں صرف ایک نوکری یا ایک ہی آمدنی کے ذریعے پورے خاندان کا خرچ چلانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف ڈگریوں کے پیچھے بھگانے کے بجائے’’ان ڈیمانڈ سکلز‘‘(Digital Skills) سکھانی ہوں گی۔ گرافک ڈیزائننگ، کنٹینٹ رائٹنگ، ای کامرس اور 
کوڈنگ جیسے شعبے ایسے ہیں جو گھر بیٹھے ڈالر میں آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اگر گھر کے پڑھے لکھے نوجوان اور خواتین اپنی تعلیم کو ڈیجیٹل ہنر میں بدل لیں، تو وہ نہ صرف اپنے خاندان کو معاشی سہارا دے سکتے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں’’کمیونٹی سپورٹ‘‘ یعنی باہمی تعاون کے نظام کو زندہ کرنا ہوگا۔ مہنگائی کے اس دور میں تھوک بازاروں (Wholesale Markets) سے مل کر راشن خریدنا، محلے کی سطح پر بچوں کے لیے مشترکہ ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا، اور ایک دوسرے کی ضرورت کا خیال رکھنا وقت کا تقاضا ہے۔ گھروں کے اندر چھوٹے پیمانے پر’’کچن گارڈننگ‘‘کو فروغ دے کر ہم ٹماٹر، دھنیا، پودینہ اور ہری مرچیں جیسی روزمرہ کی اشیاء خود اگا سکتے ہیں، جس سے کچن کے اخراجات میں واضح کمی آتی ہے۔

حکومتوں سے ریلیف کا مطالبہ کرنا عوام کا حق ہے اور ریاست کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، لیکن حقیقت پسند بننا بھی ضروری ہے۔ بین الاقوامی معاشی حالات اور ملکی قرضوں کے بوجھ کو دیکھتے ہوئے راتوں رات جادوئی ریلیف کی امید رکھنا خام خیالی ہے۔ اس لیے، عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بیرونی امداد کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے اپنی داخلی طاقت کو مجتمع کریں۔ مہنگائی ایک کڑوی حقیقت ہے، لیکن یہ ناقابلِ شکست نہیں ہے۔ اگر ہم منظم بجٹ سازی کریں، اپنی ترجیحات کو درست کریں، اسراف سے بچیں اور اپنی مہارتوں کو بڑھا کر آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کریں، تو ہم نہ صرف اس طوفان سے سرخرو ہو کر نکل سکتے ہیں بلکہ ایک زیادہ خود دار اور مضبوط قوم بن سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، بدلاؤ حکومتوں کے فیصلوں سے پہلے ہمارے اپنے گھر کے فیصلوں سے شروع ہوتا ہے۔