بقا کی جنگ اور ہماری ترجیحات

 میاں انجم شہزاد
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک معاشی موڑ سے گزر رہا ہے جہاں عام آدمی کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی ایک بھاری قیمت کا تقاضا کر رہی ہیں۔ مہنگائی کی موجودہ لہر، بجلی کے کمر توڑ بلز، سوئی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ان سب کے درمیان پسپا ہوتا ہوا ہمارا تعلیمی نظام یہ وہ تلخ حقائق ہیں جن پر جذباتی نعرے بازی کے بجائے ایک سنجیدہ، غیر جانبدارانہ اور متوازن بحث کی ضرورت ہے۔ ریاست کا بنیادی فریضہ شہریوں کو تحفظ، انصاف اور جینے کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن جب یہ سہولیات ہی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں تو معاشرتی اور معاشی ڈھانچہ بکھرنے لگتا ہے۔

توانائی کے شعبے کی بات کی جائے تو اس وقت بجلی کے بلز غریب اور متوسط طبقے کے لیے کسی مستقل ذہنی عذاب سے کم نہیں ہیں۔ ایک عام تنخواہ دار شخص کی آدھی سے زیادہ آمدن صرف یوٹیلیٹی بلز کی نذر ہو جاتی ہے اس مسئلے کا ایک رخ تو عوامی مجبوری ہے، لیکن دوسرا رخ ملکی معیشت کی جکڑن بھی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سخت شرائط، پچھلی دہائیوں میں کیے گئے مہنگے آئی پی پیز کے معاہدے، اور لائن لاسز (بجلی چوری) کی وجہ سے حکومت کے پاس ٹیکسز اور ٹیرف بڑھانے کے سوا کوئی آسان چارہ نہیں بچتا،اگرچہ حکومت نے حال ہی میں کچھ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرِ ثانی اور ٹیرف میں معمولی کمی کے اقدامات کیے ہیں، لیکن مستقل ریلیف اب بھی خواب بنا ہوا ہے،جب تک ہم اپنے ترسیلی نظام کو جدید نہیں بناتے، بجلی چوری کا مکمل خاتمہ نہیں کرتے اور سولر انرجی جیسے سستے متبادل ذرائع کی طرف مخلصانہ پیش رفت نہیں کرتے، عوام کو حقیقی ریلیف دینا نامکن رہے گا

یہی صورتحال سوئی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی بھی ہے۔ پاکستان میں گیس کے قدرتی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور گیس کمپنیوں کی جانب سے محصولات میں مسلسل اضافے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں،گیس کے بلوں میں سلیب سسٹم اور پروٹیکٹڈ و نان پروٹیکٹڈ صارفین کی تقسیم نے عام صارفین کو شدید چکرایا ہوا ہے، جہاں سردیوں کے بعد گرمیوں میں بھی بھاری فکسڈ چارجز وصول کیے جا رہے ہیں،گیس کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ نہ صرف غریب کا چولہا ٹھنڈا کر رہا ہے بلکہ ہماری مقامی صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھا کر انہیں عالمی مارکیٹ میں غیر مسابقتی بنا رہا ہے،یہاں بھی توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ گیس چوری کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں اور صنعتی شعبے کو تحفظ دیا جائے تاکہ ملکی برآمدات متاثر نہ ہوں

ان تمام معاشی مشکلات کا سب سے ہولناک اثر ہمارے تعلیمی نظام پر پڑ رہا ہے۔ جب والدین کے لیے روٹی، کپڑا، مکان اور یوٹیلیٹی بلز پورا کرنا ہی ایک چیلنج بن جائے، تو ان کی سب سے پہلی کٹوتی بچوں کی تعلیم پر ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو کہ ایک سنگین قومی المیہ ہے۔ ہمارا سرکاری تعلیمی نظام بنیادی سہولیات، اساتذہ کی کمی اور جدید نصاب سے محروم ہے، جبکہ دوسری طرف نجی تعلیمی ادارے ایک منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں جہاں فیسوں میں ہوش ربا اضافہ عام آدمی کی کمر توڑ رہا ہے۔

تعلیم کسی بھی ملک کے روشن مستقبل کی ضامن ہوتی ہے، لیکن ہم نے اسے اپنی ترجیحات میں سب سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔ معاشی اصلاحات اور آئی ایم ایف کے دباؤ کے اس دور میں جہاں ہر چیز پر سے سبسڈیز ختم کی جا رہی ہیں، وہاں تعلیم کے بجٹ میں انقلابی اضافہ کرنا ناگزیر تھا ہمیں ایک ایسے یکساں اور سستے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جہاں غریب کا بچہ بھی وہی جدید تعلیم حاصل کر سکے جو کسی امیر کا بچہ حاصل کرتا ہے۔ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے نصاب کو بدلے بغیر ہم عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دوڑ میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ موجودہ صورتحال کا اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو حکومت اور عوام دونوں اپنی اپنی جگہ مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت پر معیشت کو پٹری پر رکھنے اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کرنے کا دباؤ ہے، جبکہ عوام کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ لیکن پالیسی سازوں کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ کوئی بھی معاشی اصلاحات عوامی خوشحالی اور سماجی استحکام کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ 

اس بحران سے نکلنے اور ملکی نظام میں توازن لانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت سرکاری افسران، وزراء اور مقتدر حلقوں کو ملنے والی مفت بجلی اور گیس کی سہولیات کو فوری اور مکمل طور پر بند کرے تاکہ عوام کو یہ احساس ہو کہ قربانی صرف ان سے نہیں مانگی جا رہی۔تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ان شعبوں (جیسے بڑے تاجر، رئیل اسٹیٹ اور بڑے زرعی مالکان) کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اب تک اپنی بساط کے مطابق ٹیکس نہیں دے رہے۔سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار بہتر کرنے کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں اور نجی اسکولوں کی فیسوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں تاکہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے علم سے محروم نہ رہے۔آئی پی پیز کے ساتھ کپیسٹی چارجز کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ بجلی کی اصل پیداواری قیمت کو نیچے لا کر صنعت اور عوام کو مستقل ریلیف دیا جا سکے ،ہم وقتی سہاروں اور عارضی پالیسیوں کے بجائے طویل مدتی اور پائیدار اصلاحات کی طرف بڑھیں۔ اگر آج ہم نے اپنے توانائی کے شعبے اور تعلیمی نظام کو درست نہ کیا، تو معاشی دلدل ہمیں مزید گہرا کھینچ لے گی۔ امید ہے کہ اربابِ اختیار ہوش کے ناخن لیں گے اور اس ملک کے غیور مگر مجبور عوام کو جینے کا حق فراہم کریں گے۔