امن ہماری ترجیح مگرغیرت ہماری فطرت

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
خطرناک قوتوں پرمشتمل کام اورتنصیبات،یعنی ڈیم،ڈائکس اورجوہری بجلی پیداکرنے والے اسٹیشنوں کوحملے کانشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
اس کامطلب ہے کہ ڈیمز،آبی ذخائراوربجلی پیداکرنے والے ہائیڈروپلانٹس کونشانہ بناناجنگی جرم تصورکیاجاتاہے۔ایسے ہولناک حملے کے ممکنہ نتائج میں لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ماحولیاتی تباہی، پانی کی قلت، اور معیشت کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتاہے۔یہ اقدام ماحولیاتی دہشتگردی کے زمرے میں بھی آتاہے۔بھارت کی یہ کارروائی نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی اقدارکے منافی ہے۔پاکستان نے ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے دفاعی حدتک جواب دیااورشہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی۔
پاک فوج کے ترجمان جنرل احمدشریف چوہدری نے بروقت عالمی برادری کومتنبہ کیاکہ’’کیاانڈیاجانتاہے کہ آبی تنصیبات پرحملے کے کیاخطرناک نتائج ہوں گے؟‘‘انہوں نے خبردارکیاکہ بھارت کے اس اقدام کے سنگین جیوپولیٹیکل نتائج ہوں گے۔انہوں نے خبردارکیاکہ پاکستان اپنے آبی ذخائرکے دفاع کیلئے ہرممکن اقدام کرے گا۔مزیدیہ کہ پاکستان نے اقوام متحدہ،عالمی عدالت انصاف اوردیگراداروں سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ ایسے خطرناک رجحانات کوروکاجاسکے جوخطے میں انسانی بحران کوجنم دے سکتے ہیں۔
 پاکستان ایک ذمہ دار،پرامن اوربین الاقوامی قوانین کاپابندریاست ہے لیکن جب ریاست کودرپیش خطرات اس کی شہری آبادی، عبادت گاہوں،اوربنیادی انفرااسٹرکچرکونشانہ بناتے ہیں،توعوام کے تحفظ کی حدتک ہرریاست کی بین الاقوامی ذمہ داریوں میں اس کا یہ آئینی،قانونی اوراخلاقی فرض بن جاتاہے کہ وہ اپنی عوام کاہرقیمت پرتحفظ کرے۔ 
بین الاقوامی قانون کے تحت،خاص طورپراقوام متحدہ کے چارٹرکے آرٹیکل51کے تحت،ہرملک کواپنی خودمختاری اورسلامتی کے خلاف حملے کی صورت میں دفاع کامکمل حق حاصل ہے،جس میں مسلح کارروائی شامل ہے۔
تحفظ کی ذمہ داری کااصول(آرٹی پی)جویہ وضاحت کرتاہے کہ اگرکوئی ریاست اپنے شہریوں کوقتلِ عام،نسلی صفایا،جنگی جرائم یاانسانیت کے خلاف جرائم سے بچانے میں ناکام ہو،توعالمی برادری کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مداخلت کرے۔
لیکن یہ ذمہ داری سب سے پہلے متاثرہ ریاست پرعائد ہوتی ہے کہ وہ
٭حملے کے منبع کوبے اثرکرے،
٭شہری علاقوں کوڈھال بننے سے روکے،
٭حملہ آورقوت کوبازرکھے،اور
اقوامِ متحدہ کوصورتحال سے آگاہ کرکے قانونی مددحاصل کرے۔
بھارت کی موجودہ کارروائیاںجنگی جرم اوراشتعال انگیزی پرمبنی ہیں۔بھارت نے جس اندازسے مساجدکونشانہ بنایا،نیلم جہلم ہائیڈروپاورپراجیکٹ اورنوسیری ڈیم پرمیزائل برسائے،عورتوں اوربچوں سمیت درجنوں بے گناہ پاکستانی شہریوں کوشہیدکیا،یہ تمام اقدامات بین الاقوامی سطح پرجنگی جرائم،انسانیت کے خلاف جرائم اورماحولیاتی دہشتگردی کے زمرے میں آتے ہیں۔
پاکستان بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی افواج کودفاع کامکمل اختیاردیتاہے،دشمن کی فوجی تنصیبات کونشانہ بنانے کاحق محفوظ رکھتاہے،ایسی کارروائیاں جن کامقصدشہری جانوں کی حفاظت،مستقبل کے حملوں کی روک تھام،اوربھارت کی جارحیت کوغیرمثربنانانہ صرف جائز بلکہ ناگزیر ہیں۔
ہم عالمی برادری کومتنبہ کرتے ہیں کہ اگربھارتی حملے جاری رہے،توپاکستان شہری آبادی کوبچانے کیلئے ٹارگٹڈملٹری اسٹرائکس کاحق محفوظ رکھتاہے،کسی بھی سطح کی جارحیت کا بھرپور ،فوری اورفیصلہ کن جواب دے گااوراقوام متحدہ کے چارٹرکے آرٹیکل 51کے تحت اپنادفاعی حق استعمال کرے گا۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ:
٭پاکستان فوری طورپربین الاقوامی سفارتی مہم کاآغازکرے۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان(امریکا،چین،روس،برطانیہ،فرانس) اسلامی تعاون تنظیم’’اوآئی سی‘‘اوریورپی یونین کے فورمزپربھارت کی ننگی جنگی جارحیت کوروکنے کے خلاف اقوام متحدہ میں ہنگامی اجلاس بلانے کامطالبہ کیاجائے جہاں پاکستان کے شہریوں کی شہادت کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے مودی کو جنگی مجرم قراردلانے کا مطالبہ کیا جائے۔
٭عالمی میڈیا کوحقائق پرمبنی شواہدپیش کرنے کیلئے حملوں کی تصاویر،شہرویڈیوز،سیٹلائٹ فوٹیج،میزائل کے باقیات اور شہری ہلاکتوں کی ڈاکٹری رپورٹس عالمی میڈیاکوفراہم کی جائیں۔
٭غیرملکی صحافیوں کومتاثرہ علاقوں کادورہ کروایاجائے۔ 
٭نیلم جہلم ہائیڈروپاورپراجیکٹ اورمساجدپرحملوں کو"وارکرائم"کے طورپرپیش کرنے کے عملی اقدامات کئے جائیں۔
٭بھارت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ دائرکیاجائے۔   
٭بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کے جنگی جرائم پرانٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس یاانٹرنیشنل کرمنل کورٹ سے رجوع کیا جائے۔
٭ماحولیاتی دہشتگردی"،"شہریوں کے قتل"اور"مذہبی مقامات پرحملوں"کی قانونی بنیادوں پرپیروی کابندوبست کیاجائے۔  
٭ہتھیاروں کے عدم پھیلااورامن پسندی کااعلان کرتے ہوئے اقوام عالم کوباورکروایاجائے کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتالیکن دفاع کا مکمل حق رکھتاہے۔
٭جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے اجتناب کااعلان(یہ عالمی برادری میں پاکستان کی پوزیشن کواخلاقی طورمضبوط کرے گا)۔  
٭پاکستان کواقوامِ متحدہ اوراوآئی سی جیسے فورمزپربھارت کے خلاف اقتصادی وسفارتی پابندیوں کامطالبہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل پابندیوں کی سفارش کی جائے۔ 
٭بھارت کواسلحے کی سپلائی پرعالمی پابندی لگائی جائے۔
٭بھارتی مصنوعات پرٹیکس یابائیکاٹ کی مہم چلائی جائے۔ 
٭بھارتی فوجی اہلکاروں اورسیاستدانوں پرویزہ پرپابندیاں لگاکرسفرکی پابندیاں لگائی جائیں۔  
٭انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر(جی ایس پی پلس اسٹیٹس)تجارتی مراعات ختم کی جائیں۔  
٭چین،ترکی،سعودی عرب اوردیگردوست ممالک سے مشترکہ مؤقف کااعلان کیاجائے۔ 
٭چین کے ذریعے اقوامِ متحدہ میں ویٹوپاورکواستعمال کیا جائے۔ 
٭سعودی عرب ودیگرخلیجی ریاستوں کے ساتھ مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری کروایاجائے۔ 
٭بھارت کوسفارتی طورپرتنہاکرنے کی کوشش تیزکی جائیں۔ 
 اگر پاکستان ان تمام اقدامات کومربوط اندازمیں،شواہداوربین الاقوامی قانون کی روشنی میں پیش کرے،تودنیابھارت کوجارح ریاست تصورکرنے پرمجبورہوجائے گی۔تب عالمی برادری کی ہمدردی پاکستان کے ساتھ ہوگی،اوربھارت پرسفارتی،تجارتی اورقانونی دبا ڈالناآسان ہوجائے گا۔
پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتاہے کہ اقوام عالم بالخصوص امریکااورمغرب کی طرف سے فوری طورپربھارت کی مذمت کی جائے اوراس کے خلاف قرارداد پیش کی جائے۔
بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیاجائے تاکہ شہری،مذہبی،اورآبی تنصیبات پرحملوں کی تحقیقات ہوسکیں۔