خیبر پختونخواہ میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے؛ ڈی جی آئی ایس پی آر

خیبر پختونخواہ میں 80 فیصد دہشت گردانہ حملے ہوئے؛ ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں پیش آئے، جس کی بنیادی وجہ وہاں دہشتگردوں کو فراہم کیا جانے والا سازگار سیاسی ماحول ہے۔

سینئر صحافیوں کو 2025 میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 5 ہزار 400 دہشتگردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ 1,235 قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال اب تک 5 ہزار 397 انسداد دہشتگردی آپریشنز کیے جا چکے ہیں جبکہ 2 ہزار 597 دہشتگرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں افغانستان میں تبدیلی کے بعد دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور تمام بڑی دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ افغانستان میں موجود ہے، جہاں انہیں منظم اور سپورٹ کیا جا رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں، جبکہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ فوج نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے اور اسے ہر صورت جیتنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اس پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔