ملک محمد اسحاق
جدید پاکستان کے معمار، جمہوریت کے شہید، اور ایک نامکمل قومی خواب‘تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اقتدار نہیں سنبھالتیں،وہ قوموں کی سمت متعین کرتی ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو انہی نابغہ روزگار رہنماؤں میں سے تھے۔وہ صرف پاکستان کے وزیرِاعظم نہیں تھے،وہ صرف ایک سیاست دان نہیں تھے،وہ محض ایک مدبر نہیں تھے ‘وہ ایک نظریہ تھے،اور نظریات کو تخت دار ختم نہیں کر سکتا۔
عوام کا نمائندہ، اشرافیہ کا چیلنج
ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی سیاست کا مزاج بدل دیا۔
1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ کرانہوں نے اقتدار کے ایوانوں کے دروازے محنت کشوں، کسانوں، طلبہ، خواتین اور محروم طبقات پر کھول دیے۔’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘کوئی نعرہ نہیں تھا ‘یہ ریاستی فلسفہ تھا۔یہ اعلان تھا کہ انسان کی عزت اس کی بنیادی ضروریات سے جڑی ہے اور جمہوریت سماجی انصاف کے بغیر نامکمل ہے۔
1971ء کے بعد ایک ٹوٹے ہوئے ملک کی تعمیر
دسمبر 1971ء میںجب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعدملک ٹوٹا ہوا، مایوس، تنہا اور زخمی تھا،ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار نہیں سنبھالا‘انہوں نے ملبہ سنبھالا۔انہوں نے:سویلین بالادستی بحال کی‘ریاستی اداروں کو ازسرِنو منظم کیا‘قومی اعتماد کو زندہ کیااور پاکستان کو دیا
1973ء کا متفقہ آئین‘جو آج بھی ریاست کی بنیاد ہے،جس نے:پارلیمانی جمہوریت قائم کی‘بنیادی حقوق کی ضمانت دی‘وفاق اور صوبوں میں توازن پیدا کیا‘
اداروں کی تعمیر، خودمختاری کی بنیاد
ذوالفقار علی بھٹو نے ایسے ادارے قائم کیے‘جو محض منصوبے نہیں تھیبلکہ قومی خودداری کے ستون تھے:پاکستان اسٹیل ملز ہیوی مکینیکل کمپلیکس، ٹیکسلا پورٹ قاسم‘نیشنل شپنگ کارپوریشن‘سرکاری جامعات اور انجینئرنگ اداروں کی توسیع‘دفاعی و صنعتی خودانحصاری کی بنیاد
یہ سب اس وژن کا حصہ تھاجس کا مقصد پاکستان کودوسروں کا محتاج بننے سے بچانا تھا۔
ایٹمی پروگرام: بقا کا فیصلہ
ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سیاسی معمار تھے۔انہوں نے واضح کیا بغیر دفاعی توازن کے کوئی قوم آزاد نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے سائنسدانوں کو تحفظ دیا،وسائل فراہم کیے،اور عالمی دباؤ کے باوجودقومی سلامتی پر سمجھوتہ نہ کیا۔آج پاکستان کا ایٹمی دفاع بھٹوکے وژن کی عملی شکل ہے۔
خارجہ پالیسی: وقار، خودداری اور جرات
بھٹو نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو انحصار سے نکال کر وقار سے جوڑا۔چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات‘مسلم دنیا کے ساتھ مضبوط رشتہ‘نان الائنڈ موومنٹ میں فعال کردار‘عالمی طاقتوں کے سامنے خودمختار مؤقف
اسلامی سربراہی کانفرنس — لاہور 1974ء
1974ء میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد ذوالفقار علی بھٹو کیعالمی قیادت کا ثبوت تھا۔اس کانفرنس نے پاکستان کو مسلم دنیا کا مرکز بنایا‘امتِ مسلمہ کو یکجا کیا‘پاکستان کی سفارتی حیثیت بلند کی
شملہ معاہدہ: قیدیوں اور زمین کی واپسی
1971ء کی جنگ کے بعد
تقریباً 90 ہزار پاکستانی جنگی قیدی بھارت کی قید میں تھے۔ذوالفقار علی بھٹو قیدیوں کو باعزت وطن واپس لائے‘قبضہ شدہ علاقے واپس حاصل کیے‘کشمیر کے مسئلے کو عالمی دباؤ سے بچایا‘یہ محض معاہدہ نہیں تھا ‘یہ قومی وقار کی بحالی تھی۔
جمہوریت کی جدوجہد اور شہادت
1977ء میں آمریت نے اقتدار پر قبضہ کیا۔بھٹو کو ایک متنازع مقدمے میں
پھانسی دی گئی۔لیکن تاریخ گواہ ہے:ذوالفقار علی بھٹو نے تخت دار کو چوما،
مگر آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔یوں وہجمہوریت کے شہید بن گئے ‘علامت سے نہیں،انتخاب سے۔
آج بھی بھٹو? کیوں ضروری ہیں؟
آج پاکستان:عدم مساوات‘ادارہ جاتی کمزوری‘جمہوری بحران سے دوچار ہے۔ان حالات میںبھٹو کا وژن کوئی ماضی کی یاد نہیں یہ آج کی ضرورت ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بھٹو نظریاتی ستون ہیں۔ پاکستان کے لییوہ نامکمل خواب ہیں۔مسلم دنیا کی سیاسی تاریخ میں
ذوالفقار علی بھٹوایک نایاب ہیرا تھے ‘جرات مند، جدید، باوقار اور اصولی۔وقت نے ثابت کیا:بھٹو ایک دور کا نہیں،ہر دور کا رہنما ہے۔