بھارتی ہائی کمشنر مجھے خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکتے رہے ایازصادق

منصوبہ بندی کے تحت بس میں روکے رکھا گیا،تمام دبائو کے باوجود بنگالی عوام کے درمیان کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ ادا کی بھارتی وفد پوری تیاری اور منصوبہ بندی کے تحت  آیا تھا
 اپوزیشن کے بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا  محمود خان اچکزئی ہمیں قبول نہیں، اپوزیشن ہمارے پاس آئے تو حکومت سے بات کروں گا‘  اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں
 مذاکرات صرف ارکان پارلیمنٹ کے درمیان ہی کروا سکتے ہیں، اگر پارلیمنٹ کے علاوہ کوئی اور فریق مذاکرات کا حصہ بننا چاہتا ہے تو اسے حکومت سے رابطہ کرنا ہوگا:سپیکرکی صحافیوں سے  گفتگو
اسلا م آباد(آئی این پی )سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے انکشاف کیا ہے  ڈھاکہ میں سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے دوران بھارتی وفد نے انہیں جنازے میں جانے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے تمام دبائو کے باوجود بنگالی عوام کے درمیان کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ ادا کی۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ وہ خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کیلئے   ڈھاکا گئے تھے جہاں مالدیپ، نیپال اور بھوٹان کے وفود کو ایک بس میں جنازہ گاہ لایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ بس کی فرنٹ سیٹوں پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور بھارتی ہائی کمشنر بیٹھے تھے۔ جے شنکر نے بس کے شیشوں پر پردے لگوا دئیے، جبکہ وہ خود اپنے ہائی کمشنر کے ساتھ پچھلی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ایاز صادق نے بتایا کہ انہوں نے بس کے پردے سائیڈ پر کر دئیے اور بنگالی عوام کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیتے رہے۔اسپیکر  قومی اسمبلی کے مطابق جب بس جنازہ گاہ پہنچی تو بھارتی ہائی کمشنر دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ جیسے ہی وہ نیچے اترنے لگے تو بھارتی حکام نے کہا کہ آپ نہ جائیں، آپ کو خطرہ ہے۔ایاز صادق نے کہا کہ انہوں نے واضح جواب دیا کہ وہ جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہیں اور دروازہ کھولا جائے۔ انہوں نے غصے اور زور سے دروازہ کھولنے کا کہا، جس کے بعد دروازہ کھولا گیا اور وہ نیپال اور مالدیپ کے وفود کے ساتھ نیچے اتر گئے۔انہوں نے بتایا کہ وہ بنگالی عوام کے درمیان کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے، جبکہ بھارتی وزیر خارجہ اور بھارتی ہائی کمشنر بس میں ہی بیٹھے رہے۔اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بھارتی وفد نے جنازہ پڑھنا ہی نہیں تھا اور بھارتی ہائی کمشنر کی پوری کوشش تھی کہ وہ بھی نمازِ جنازہ ادا نہ کریں۔ ان کے مطابق بھارتی وفد پوری تیاری اور منصوبہ بندی کے تحت وہاں آیا تھا۔ ایاز صادق نے کہا ہے  پی ٹی آئی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اختلافات ہیں۔ اپوزیشن کے بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا کہ محمود خان اچکزئی ہمیں قبول نہیں، اپوزیشن ہمارے پاس آئے تو حکومت سے بات کروں گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ حکومت سے بات کریں گے اور بطور سہولت کار اپنا کردار ادا کریں گے تاہم ان کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ ایاز صادق نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، وزیراعظم نے اس حوالے سے فیصلوں کا اختیار انہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑوں سے مشاورت اور نصیحت لینا ضروری ہوتا ہے، اسی لیے وہ تمام معاملات آئین و قواعد کے مطابق دیکھ رہے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر سیاست نہ کریں۔