ٹرمپ کو سزا سنانے کیلئے 10 جنوری کی تاریخ مقرر

 صدارتی استثنیٰ کی درخواست مسترد،انصاف کے تقاضے پورے ہونگے:جج
 ہش منی کیس میں نومنتخب صدرکو جیل کی سزا نہیں سنائی جائے گی: میڈیا 
نیویارک(اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک)نیویارک کی عدالت نے ہش منی کیس میں ٹرمپ کو سزا سنانے کیلئے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی۔امریکی میڈیا کے مطابق ممکنہ طورپر ٹرمپ کوجیل کی سزا نہیں ہوگی، وہ حلف برداری سے پہلے ہی سزا کے خلاف اپیل دائرکریں گے،ٹرمپ مجرم قرار پاکرخدمات انجام دینے والے پہلے امریکی صدرہوں گے۔ گزشتہ سال مئی میں ڈونلڈ ٹرمپ پرکاروباری معلومات میں جعلسازی سمیت 34 الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے صدارتی استثنیٰ کا دعویٰ بھی مسترد کردیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کرنے والے مینہیٹن کے جج جووان ایم مرچن نے تحریری فیصلے میں اشارہ دیا کہ وہ سابق اور مستقبل کے صدر کو وہ سزا سنا دیں گے جسے ان کنڈیشنل ڈسچارج کہتے ہیں۔اس میں جرم ثابت ہو جاتا ہے تاہم جیل جانے کے معاملے میں رعایت دی جاتی ہے اور جرمانہ ادا کیا جا سکتا ہے۔عدالت نے ٹرمپ کی جانب سے صدارتی استثنیٰ اور دوسری بار صدر منتخب ہونے کی بنیادوں پر دی جانے والے درخواست کو مسترد کر دیا۔انہوں نے درخواست میں پچھلے فیصلے کو معطل کرنے کی درخواست کی تھی۔جووان مرچن نے لکھا کہ اس معاملے کو حتمی شکل دینے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔واضح رہے نومنتخب صدر کو پورن سٹار سٹورمی ڈینیئل کو رقم دینے سمیت مالی لین دین سے متعلق 34 الزامات کا سامنا ہے جسے ہش منی کیس کہا جاتا ہے۔ نومنتخب امریکی صدر کو 26 نومبر کو سزا سنائی جانی تھی تاہم عدالت نے سزا سنانے کی تاریخ غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی تھی۔