منشیات اور ہماری سالمیت

رفیع احمد صدر تنظیم فانوس

 پاکستان میں منشیات کے عادی افراد میں روز بروز اضافہ ہوتے ہوتے ڈیڑھ کروڑ افراد تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں ہمارے 30 لاکھ طلبہ وطالبات بھی شامل ہیں یہ  افراد شراب، چرس، ہیروئن، آئس، الیکٹرونکس سگریٹ(ویپ) ، نشہ آور گولیاں  و شربت استعمال کررہے ہیں۔اس طرح ہم اپنا قیمتی زرمبادلہ ضائع کر دیتے ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق ہم نے صرف سگریٹ کی درآمد پر سالانہ 91 ملین امریکی ڈالر خرچ کرکے اپنے قیمتی خون پسینے کی کمائی ضائع کی ہے۔ سگریٹ کی درآمد سے حکومت کو ٹیکس کی مد میں بہت فائدہ ہوتا ہے لیکن دوسری طرف پاکستان میں سگریٹ کی اسمگلنگ سے معشیت کو سالانہ تقریباً 70 سے 80، ارب کا ٹیکس کی مد میں نقصان بھی ہوتا ہے۔ اسمگل شدہ سگریٹ غیر معیاری ہونے کی وجہ سے بھی صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ منشیات کے عادی افراد نہ صرف اپنی جان ومال کے دشمن ہوتے ہیں بلکہ وہ دیگر افراد کے بھی جان ومال کے دشمن بن جاتے ہیں۔  سال 2024 ،کے دوران  میں صرف کراچی میں 110،قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ہیں ،ان منشیات کے عادی افراد نے گاڑی ،موبائل اور رقم چھیننے میں لی ہیں۔ انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق یہ ڈاکو واردات سے قبل نشہ آور گولیوں کا استعمال کرکے کاروائی کرتے ہیں۔ ان گولیوں سے ان کا دماغ سن ہوکر صرف اور صرف اپنے ٹارگٹ پر ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ گولیاں میساڈون، ٹراما ڈون، زیڈول، اینٹی وان، اور ڈایاز پام وغیرہ میڈیکل اسٹور سے با آسانی مل جاتی ہیں۔ یہ نشہ آور گولیاں 80، سے زائد ناموں سے ملتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیکل اسٹورز کو پابند کرے کہ ڈاکٹری نسخے کے بغیر نشہ آور ادویات کسی کو نہ دیں۔عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لیئے متبادل نشوں کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس میں سر فہرست الیکٹرونکس سگریٹ ( ویپ ) اور نکوٹین پاوچز شامل ہیں۔ ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ نکوٹین پاوچز تمباکو نوشی کا متبادل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کو پینے والے کے دل کی بیماریوں اور دماغی نشوونما میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے اور اس نشہ کو ہماری نوجوان نسل سب سے زیادہ استعمال کر رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس نشہ کو ہمارے طلبہ وطالبات جن کی عمریں 15، سے 24، سال ہیں وہ بھی اسے استعمال کر رہے ہیں۔ پان کی دکانیں اور میڈیکل اسٹورز اس کی خریدوفروخت کے اہم مراکز ہیں۔ 
منشیات کی روک تھام میں پولیس کا کردار بھی بہت اہم  ہوتا ہے۔ پولیس اگر اس خباثت کو روکنا چاہے تو با آ سانی روک سکتی ہے۔ صرف کراچی شہر میں قریباً 120 پولیس اسٹیشن ہیں جن میں 40 ہزار اہلکار تعین ہیں اور اچھی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ ان کے پاس جدید اسلحہ و گاڑیاں بھی موجود ہیں اس کے باوجود عوام الناس میں یہ بات زدعام ہے کہ منشیات کی تجارت  میں پولیس کا بڑا ہاتھ ہے، پکڑی جانے والی منشیات  پھر سے فروغ کر دی جاتی ہے۔دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق سن 2021 کی رپورٹ کے مطابق 363، چھوٹے بڑے منشیات کے اڈے ان کی سر پرستی میں چل رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی کراچی منشیات کی تجارت میں عالمی بد نامی رکھتا ہے۔ پولیس کی ناقص کارکردگی کی بنا پر جگہ جگہ منشیات با آسانی دستیاب ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کو نہ صرف نکالے بلکہ انہیں سخت سزائیں بھی دے۔ پولیس اگر چاہے کہ عوام میں ان کا امیج بہتر ھو تو وہ فوری طور پر اوپر سے نیچے تک اپنا رینڈم ڈرگ ٹیسٹ شروع کرے جس کی بدولت پولیس کی کارکردگی نہ صرف بہتر ہوگی بلکہ وہ ذہنی وجسمانی طور بھی پر اپنے فرائض کی انجام دہی بہتر کرکے عوام کا اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں پولیس فورسز کا ڈرگ ٹیسٹ لازمی ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے  ہمارے یاں کوئی جامع پالیسی ہی نہیں ہے،حکومت کو چاہیئے کہ وہ ان کے اثاثوں کی بھی چھان بین کرے۔ 
ہم سب کوچاہیئے کہ انسداد منشیات میں اپنا اپنا کردار ادا کریں،حکومت فوری طور پر منشیات فروشوں کے خلاف جنگی بنیادوں پر کریک ڈاؤن کرے نیز منشیات کے ساتھ ساتھ نشہ آ ور گولیاں و مشروبات، نکوٹین پاوچز اور ویپ کو پوری طاقت سے روک تھام کرے۔ اگر ہم نے منشیات مافیاز کو نہیں روکا تو چند سالوں میں ہر گھر میں منشیات کا عادی ہوگا جس سے ہماری سالمیت کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔