منشیات کے عادی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں!

 رفیع احمد 
   وطنِ عزیز اپنے قیام سے ہی اندورنی اور بیرونی خطروں کا شکار رہا ہے،جوں جوں وقت گزرا بیرونی مسائل کے ساتھ ساتھ اندرونی سازشوں میں بھی  میں بے پناہ اضافہ ہوتا چلا گیا ہے،ہمیں یاد ہے کہ اندرونی سازشوں کی وجہ سے ہی پیارا پاکستان دو لخت ہوگیا،لسانی، عصبیت,فرقہ واریت اور غیر مستحکم حکومتوں کی وجہ سے جہالت ، غربت ، بے روزگاری اور ناخواندگی میں بے پناہ اضافہ ہوا، غلط حکمت عملی کی وجہ سے 40، لاکھ سے زائد افغانیوں کو اپنے ملک میں داخل کر کے اپنے اندورنی معاملات میں بے پناہ اضافہ کر دیا اور اپنی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔ اس وقت ہمارے ملک کا سب سے بڑا اہم اندورنی مسئلہ روز بروز بڑھتی ہوئی منشیات ہے جس نے ہماری معاشی، سیاسی، سماجی اور اخلاقی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے،جس نے لاکھوں افراد کو موت کی نیند سلا دیا ہے اور لاکھوں افراد زندہ لاشوں کی مانند ہماری بے حسی کا مذاق اڑا رہے ہیں،ان کی وجہ سے لاکھوں گھرانوں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ منشیات کے عادی افراد اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی جان لینے سے بھی دریخ نہیں کرتے ہیں۔
    منشیات کی مؤثر روک تھام نہ ہونے کی وجہ سے اور بآسانی دستیابی کی وجہ سے منشیات کے عادی افراد"سیکورٹی رسک"بن گئے ہیں، نشی حضرات اپنا نشہ پورا کرنے کے لیے بڑا سے بڑا قدم اٹھانے سے دریخ نہیں کرتے ہیں، یہ منشیات کے عادی لوگ "ڈرگ مافیا" کے لیے براہ راست کام کرتے ہیں اور انہیں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں، شہروں کا امن و امان تباہ کرنے میں ڈرگ مافیا کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، ان منشیات کے عادی افراد کو وجہ سے چوری،ڈکیتی اور قتل و غارت گری میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے سن 2024 میں کراچی شہر میں موٹر سائیکل افراد سے پرس، موبائل اور بائیک مزاحمت پر 110، افراد ، سن  2025 میں 1000 افراد اور رواں سال 25، معصوم لوگوں کی جانیں لے چکے ہیں، منشیات کے عادی ڈرائیور حضرات نے اپنے ڈمپر، ٹینکر اور ہیوی وہیکل سے گزشتہ 3، سالوں میں قریباً 1000، افراد کی جان لے لی ہے، ان نشی لوگوں نے شہر کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
   حکومت اور عوام الناس اپنی آنکھوں کو کھولیں، گزشتہ سال ہماری فورسز نے 160،ارب روپے کی منشیات کو پکڑا اور دوسری طرف 500، ارب روپے کی منشیات کا استعمال کیا، دیکھا جائے تو اس طرح ہمارا بہت سارا قیمتی  زرمبادلہ بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے اور ہماری معیشت کو ناتلافی نقصانات ہوتے ہیں، نشہ کی وجہ سے افرادی قوت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔یورپی ممالک بھی اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کا کوئی قابلِ قدر علاج نہیں ہے بلکہ سرحدی علاقوں سے منشیات کی روک تھام اور منشیات فروشوں کو پھانسی کی سزاؤں سے روکا جا سکتا ہے،بدقسمتی سے ہم منشیات کے عادی افراد پر ان کے علاج معالجہ پر اپنا قیمتی سرمایہ اور وقت خرچ کرتے ہیں اس کی روک تھام پر مؤثر 
کارروائی نہیں کرتے ہیں۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کو چاہیے کہ وہ نشہ آور ادویات کو روکے، میڈیکل اسٹورز اور انسدادِ منشیات ہسپتالوں پر چھاپے مارے نشہ آور ادویات ملنے پر انہیں ہمیشہ کے لیے بند کر دے۔معاشرے کا ہر فرد سمجھ لے کہ خاتمے منشیات میں ہی ہماری بقا اور سلامتی ہے۔۔۔۔۔۔