عہدِ آزمائش

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
تاریخ کاایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جلدیابدیراپنے فیصلے سناتی ہے۔ٹرمپ نے غزہ میں جاری مظالم کوروکنے کی بجائے اسرائیل کی پشت پناہی کی،اوریوں یہ حقیقت آشکارہوگئی کہ وہ اورنیتن یاہو ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔جب غزہ میں مظالم اپنے عروج پرپہنچے اورعالمی ضمیرخاموش تماشائی بنارہا،تویہ واضح ہوگیاکہ انسانی حقوق کانعرہ محض ایک سیاسی ہتھیارہے۔ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی کھلی حمایت نے اس حقیقت کومزیدعیاں کردیاکہ عالمی سیاست میں اخلاقیات کی کوئی مستقل حیثیت نہیںیہ محض مفادات کے تابع ہوتی ہے۔
جب ایران پرممکنہ حملے کی بازگشت سنائی دینے لگی،اورمشرقِ وسطی ایک بارپھربارودکے ڈھیرپربیٹھانظرآیا۔توامریکی جمہوریت کا حوالہ دے کریہ کہاگیاکہ صدرتنہاجنگ نہیں چھیڑ سکتا ،مگر عملی سیاست نے اس مفروضے کوبھی چیلنج کردیا اورٹرمپ نے ان تمام جمہوری اقدارکوملیامیٹ کرنے میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کی۔ٹرمپ کے دوسرے دورمیں جوٹیم تشکیل دی گئی،وہ اس بات کی غمازتھی کہ اب پالیسی سازی میں اعتدال کی بجائے شدت پسندی کو ترجیح دی جائے گی اوراس جنونی ٹیم نے اس خدشے کوحقیقت کاروپ دے دیا۔کانگریس جیسے ادارے،جوجمہوریت کی علامت سمجھے جاتے ہیں،عملی طورپربے اثرہوتے دکھائی دیے۔یہ وہ لوگ تھے جن کے نزدیک جنگ محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی تھی۔ کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کاآغازاس بات کاثبوت تھاکہ ادارے بھی بعض اوقات شخصیات کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔دوہفتوں سے زائدجاری رہنے والی جنگ اس بات کااعلان تھی کہ دنیاایک نئے دورِتصادم میں داخل ہوچکی ہے۔یہ ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ جب ادارے کمزورہوجائیں توفیصلے جذبات اورمفادات کے تابع ہو جاتے ہیں۔
اس جنگی فضامیں کچھ شخصیات کاکردارخاص طورپرنمایاں ہے۔امریکی وزیر دفاع اورنیشنل انٹیلی جنس کی سربراہ،دونوں سابق فوجی ،ایک ایسی سوچ کے نمائندہ ہیں جس میں مذہبی تعصب اورعسکریت پسندی کاامتزاج پایاجاتاہے۔امریکی قیادت میں شامل بعض شخصیات کے بیانات اورنظریات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ محض جغرافیائی یا معاشی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔مسجد اقصیٰ کے حوالے سے خطرناک عزائم اورمسلمانوں کے خلاف کھلی نفرت،اس بات کاثبوت ہیں کہ یہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک تہذیبی تصادم ہے۔مسجد اقصی کے حوالے سے خطرناک خیالات،اورمسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزبیانات، ایک ایسے بیانیے کوجنم دیتے ہیں جودنیاکومذہبی بنیادوں پرتقسیم کرسکتاہے۔
آج کادورمعلومات کادورہے،مگریہ معلومات ہمیشہ سچ پرمبنی نہیں ہوتیں۔میڈیاکاکرداراس میں نہایت اہم ہے۔جب مخصوص حقائق کو چھپایاجائے اورمخصوص بیانیے کوفروغ دیا جائے توعوام کی رائے بھی اسی کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب متبادل معلومات سامنے آتی ہیں تولوگ حیران رہ جاتے ہیں۔جب ان شخصیات کے پس منظر اورروابط پرروشنی ڈالی گئی توکئی لوگوں کیلئے یہ انکشافات چونکادینے والے تھے۔خاص طورپرآرایس ایس اوربی جے پی کے ساتھ تعلقات کی تفصیلات نے بہت سے لوگوں کو خاموش کر دیا۔یہ خاموشی دراصل اس اعتراف کی علامت تھی کہ معلومات کی کمی نے انہیں ایک محدودزاوی نظر تک مقیدرکھاتھا۔
پاکستان میں ٹرمپ کے حوالے سے ایک نرم گوشہ پایاجاتاہے،جس کی بنیادزیادہ تربھارت مخالف بیانات پرہے۔مگریہ سوچ کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتاہے ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتی۔عالمی سیاست میں مستقل دوست یادشمن نہیں ہوتے ،صرف مفادات ہوتے ہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں امریکامیں ٹرمپ پرتنقید ممکن ہے،وہیں پاکستان میں اسے ایک دوست کے طورپرپیش کیاجارہاہے۔یہ سوچ کہ وہ مودی کامذاق اڑاتاہے،اس لیے پاکستان کاخیر خواہ ہے،ایک سادہ لوحی پرمبنی مفروضہ ہے۔درحقیقت عالمی سیاست میں دوستی نہیں، مفادات کارفرماہوتے ہیں۔ 
 بعدازاں کئی افرادنے اس بات کااعتراف کیاکہ میڈیانے انہیں اصل حقائق سے دوررکھا۔یہ اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ جدیددنیامیں اطلاعات کی فراہمی بھی ایک ہتھیار
بن چکی ہے،اورسچ کوچھپانابھی ایک حکمتِ عملی کاحصہ ہے۔آج کی جنگیں زمین کے ٹکڑوں کیلئے نہیں بلکہ وسائل کیلئے لڑی جاتی ہیں۔تیل،گیس اوردیگرتوانائی کے ذخائر وہ خزانے ہیں جن پرقبضہ عالمی طاقتوں کااصل ہدف ہے۔ایران اس حوالے سے ایک اہم ملک ہے،اوراس پرحملہ اسی حکمتِ عملی کاحصہ معلوم ہوتاہے۔وینزویلاپرحملہ اوراس کے بعدایران کے بار ے میں پیشگوئی،دراصل ایک ہی حکمتِ عملی کاتسلسل تھا۔توانائی کے ذخائرپرقبضہ،جدید استعمارکی نئی شکل ہے۔نیشنل سکیورٹی اسٹرٹیجی میں درج نکات اس بات کاواضح اشارہ تھے کہ یہ سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت ہورہاہے۔
جب کسی ریاست کی پالیسی دستاویزمیں یہ لکھاہو کہ وہ اپنے دشمنوں سے وسائل چھین لے گی،تویہ دراصل ایک اعلانِ جنگ ہوتاہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسے سفارتی زبان میں پیش کیاجاتاہے۔جب اس اسٹرٹیجی کوبغورپڑھاگیاتویہ واضح ہوگیا کہ امریکااپنے دشمنوں سے توانائی کے وسائل چھیننے کاارادہ رکھتاہے۔مارچ2026میں ایران پرحملہ اسی پالیسی کاعملی مظہرتھا۔ایران کے خلاف جنگ محض ایک ملک تک محدود نہیں رہ سکتی ایران کے خلاف جنگ اب پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پربھی پڑرہے ہیں۔تیل کی قیمتیں،عالمی تجارت،اورسیاسی اتحادسب اس سے بری طرح شدیدمتاثرہورہے ہیں۔ادھردوسری طرف مسجد اقصیٰ کے حوالے سے خدشات اورمسلم ممالک کوجنگ میں شامل کرنے کی کوششیں،ایک بڑے منصوبے کی جھلک پیش کرتی ہیں۔
جدید جنگوں میں صرف ہتھیار نہیں بلکہ فریب بھی استعمال ہوتا ہے۔ فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے ایک واقعے کا الزام کسی اور پر ڈال کر جنگ کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ اس سے سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ایران کی قیادت نے بعض حملوں کو فالس فلیگ قرار دیا ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں، مگر حکمران طبقہ اب بھی ایک خوش فہمی میں مبتلا ہے۔
امریکی سینیٹ میں پاکستان کے میزائل پروگرام کوخطرہ قراردینا،جبکہ بھارت کونظراندازکرنا،دراصل دباؤڈالنے کی ایک کوشش ہے ۔ اوریہ اس بات کاثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق اصول بدلتی رہتی ہیں۔بھارت کاذکرنہ کرنااس دوہرے معیارکی نشاندہی کرتاہے۔اوریہ دوہرامعیارعالمی نظام کی کمزوری کوظاہرکرتاہے۔تلسی گبارڈکا سیاسی سفراس بات کی مثال ہے کہ کس طرح شخصیات اپنے مفادات کے تحت نظریات بدلتی ہیں۔ڈیموکریٹک پارٹی سے علیحدگی اورریپبلکن پارٹی میں شمولیت،ایک ایسے بیانیے کی تشکیل تھی جومخصوص مفادات کی تکمیل کیلئے ترتیب دیاگیا۔آرایس ایس اوربی جے پی کیساتھ روابط،مالی معاونت،اورسیاسی حمایت یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ عالمی سیاست میں نظریاتی اتحادبھی ایک اہم کرداراداکرتے ہیں۔ (جاری ہے)