عہدِ آزمائش

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ایران کے خلاف جنگ نے ایک مثبت پہلوبھی اجاگرکیاہے ،مسلم دنیامیں فرقہ وارانہ تقسیم کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ایران کے خلاف جنگ نے شیعہ سنی اختلاف کوپسِ پشت ڈال دیاہے۔عوام اب ایک وسیع ترشناخت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔عوام اب خودکوپہلے مسلمان اوربعد میں کسی مسلک سے وابستہ سمجھنے لگے ہیں۔مگردوسری طرف یورپ اس وقت ایک مخمصے کاشکارہے۔ایک طرف وہ امریکا کااتحادی ہے،دوسری طرف وہ اس جنگ کے نتائج سے خوفزدہ بھی ہے۔یورپ کی ہچکچاہٹ کے باوجود،ایک مذہبی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش جاری ہے تاکہ جنگ کوجوازفراہم کیاجاسکے۔اس لیے ایک مذہبی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ عوامی حمایت حاصل کی جاسکے۔
بلوچستان کاخطہ اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث عالمی طاقتوں کی توجہ کامرکزہے۔اگریہاں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے تواس کے اثرات پورے خطے پرپڑیں گے۔خطے میں مستقل فوجی موجودگی کیلئے بلوچستان کوہدف بنایاجاسکتاہے۔یہ منصوبہ اگرحقیقت بن گیاتوخطے کا توازن بگڑ جائے گا۔تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی حملے ہمیشہ اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اگرکسی معاشرے میں غدارعناصر موجودہوں تودشمن کوکامیابی حاصل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ایران اورلبنان میں نیٹ ورکس کی تیاری،اس بات کی مثال ہے کہ اندرونی کمزوریوں کوکس طرح بیرونی قوتیں استعمال کرتی ہیں۔چابہاراورسیستان بلوچستان پرقبضہ،ایک ایسے جغرافیائی شکنجے کی صورت اختیارکرسکتاہے جس میں پاکستان محصورہوجائے گا۔
ایران کانظام اس لحاظ سے منفردہے کہ وہاں قیادت کاتسلسل برقراررکھنے کیلئے متبادل انتظام موجودہے۔یہی وجہ ہے کہ شدیددباؤکے باوجودوہ اپنانظام برقراررکھنے میں کامیاب رہاہے۔ڈیگوگارشیاپرحملہ اوراس کے بعدکی سفارتی سرگرمیاں،ایک پیچیدہ کھیل کی عکاسی کرتی ہیں جس میں ہرچال سوچ سمجھ کرچلی جارہی ہے۔حالیہ واقعات سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ سفارتی سطح پربھی لڑی جارہی ہے۔کبھی حملے،کبھی مذاکرات کی پیشکش یہ سب ایک حکمتِ عملی کاحصہ ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اس نازک موقع پرکیاحکمتِ عملی اختیارکرتاہے۔اس ساری صورتحال میں پاکستان ایک اہم کرداراداکرسکتا ہے۔اگروہ دانشمندی سے کام لے تونہ صرف خودکومحفوظ رکھ سکتاہے بلکہ خطے میں استحکام کاباعث بھی بن سکتاہے۔ایران اورچین کے ساتھ تعلقات،اورداخلی استحکام یہ سب عوامل اس کے مستقبل کاتعین کریں گے۔
یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی اوراشارہ کرتے ہیں کہ دنیاایک نئے دوراہے پرکھڑی بڑے مشکل امتحان سے گزررہی ہے۔اگرمسلم دنیااورمغربی اقوام نے ہوش مندی،ا تحاد اوربصیرت کامظاہرہ نہ کریں توتاریخ ایک بارپھرخودکودہراسکتی ہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم محض تماشائی نہ بنیں بلکہ حالات کاادراک کرتے ہوئے اپنی سمت کاتعین کریں، ورنہ وقت کاسیلاب ہمیں اپنے ساتھ بہالے جائے گا۔ وقت کاتقاضایہ ہے کہ ہم جذبات کی بجائے شعورسے کام لیں،اوروقتی مفادات کی بجائے طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کریں کیونکہ جوقومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں،تاریخ انہیں سبق سکھاتی ہیاوراس کااندازہمیشہ سخت ہوتاہے۔
جب تاریخ اپنے فیصلے سناتی ہے تووہ کسی عذرکوقبول نہیں کرتی۔وہ نہ طاقت کودیکھتی ہے،نہ کمزوری کووہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ انسان نے اپنے اختیارکوکس حدتک شعور،انصاف اور دیانت کے ساتھ استعمال کیا۔آج کاعہد بھی اسی کسوٹی پرپرکھاجارہاہے۔یہ جو جنگیں ہم دیکھ رہے ہیں،یہ صرف سرحدوں کی حدبندی کامسئلہ نہیں بلکہ یہ بیانیوں،نظریات اور مفادات کی ایک ایسی جنگ ہے جس میں سچ اورجھوٹ کی تمیزدھندلاچکی ہے۔یہاں ہرفریق اپنے آپ کوحق پرثابت کرنے میں مصروف ہے،اوراس کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان انسانیت کاہورہاہے۔معیشتیں لرزرہی ہیں،معاشرے تقسیم ہورہے ہیں،اورایک غیریقینی فضاپوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
یادرکھیں کہ تاریخ کاپہیہ کبھی رکتا نہیںوہ گھومتاہے،فیصلے کرتاہے،اورپھرانسانوں کوان کے اعمال کاآئینہ دکھاتاہے۔آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں،وہ محض ایک عارضی ہلچل نہیں بلکہ ایک ایسے عہدکی تمہیدہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں کی تقدیرلکھیں گے لیکن ہرتاریکی کے دامن میں روشنی کی ایک کرن ضرورچھپی ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب قوموں کواپنے اندرجھانکناچاہیے،اپنی کمزوریوں کااعتراف کرناچاہیے،اورایک نئی فکری بنیادپراپنی سمت کاتعین کرناچاہیے۔اتحاد،بصیرت اورحکمت یہ وہ ستون ہیں جن پر ایک محفوظ اورباوقارمستقبل کی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔
یہ جنگیں،یہ بیانیے،یہ اتحاداوریہ دشمنیاںسب وقتی معلوم ہوتے ہیں،مگران کے نتائج دائمی ہوتے ہیں۔اگر آج بھی انسان نے اپنے مفادات کوانسانیت پرترجیح دی،اگرطاقت نے انصاف کوروندناجاری رکھا،اوراگرقومیں شعورکی بجائے جذبات کے پیچھے چلتی رہیںتوآنے والاکل ماضی سے بھی زیادہ تاریک ہوسکتاہے۔اگرہم نے اس وقت کومحض ایک عارضی بحران سمجھ کرنظراندازکردیا،تویہ ہماری سب سے بڑی بھول ہوگی۔کیونکہ یہ عہدمحض گزرنے کیلئے نہیں آیایہ ہمیں آزمانے آیاہے،ہمیں جگانے آیاہے،اورہمیں یہ بتانے آیا ہے کہ دنیامیں بقاصرف اسی کی ہے جووقت کی نبض کوپہچان لے۔
اگرہم نے اس وقت کومحض ایک عارضی بحران سمجھ کرنظراندازکردیا،تویہ ہماری سب سے بڑی بھول ہوگی۔کیونکہ یہ عہدمحض گزرنے کیلئے نہیں آیایہ ہمیں آزمانے آیاہے،ہمیں جگانے آیاہے،اورہمیں یہ بتانے آیاہے کہ دنیامیں بقاصرف اسی کی ہے جووقت کی نبض کوپہچان لے۔مگرامیدکاچراغ ابھی بجھانہیں۔ہرعہدِآشوب میں کچھ ایسے لوگ،کچھ ایسی آوازیں ضرورہوتی ہیں جواندھیروں کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم خودکوپہچانیں،تاریخ سے سبق سیکھیں،اوراپنی سمت کاتعین شعور،بصیرت اور اتحاد کے ساتھ کریں۔
آخرکار،فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے،ہم تاریخ کے بہاؤمیں بہہ جائیں گے یااس کارخ موڑنے کی ہمت کریں گے۔کیونکہ آنے والی نسلیں صرف ہمارے اعمال کی وارث نہیں ہوں گی،بلکہ ہمارے فیصلوں کی بھی گواہ ہوں گی اورتاریخ،ہمیشہ کی طرح،اپنافیصلہ سنانے میں دیرنہیں کرے گی۔کیونکہ وقت ہمیشہ ایک سوال بن کرسامنے آتاہے اورجواب ہمیں خوددیناہوتاہے۔اگرہم نے آج درست فیصلہ نہ کیا،توکل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔