کاشف بٹ
لاہور ایک بار پھر خون میں نہا گیا۔ پتنگ کی ڈور نے ایک اور گھر اْجاڑ دیا۔ مزنگ کا رہائشی 21 سالہ نعمان یوسف، جو اپنے گھر کا واحد کفیل اور والدین کا سہارا تھا، ایک کٹی ہوئی ڈور کے وار سے زندگی کی بازی ہار گیا۔ چند لمحوں میں ہنستا بستا گھر ماتم کدہ بن گیا۔نعمان میڈیکل ریپ تھا، دن رات محنت کرکے اپنے چھوٹے بھائی اور دو بہنوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتا تھا، مگر کسی کی ‘‘تفریح’’ اس کی زندگی لے گئی۔یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ ہر سال، ہر موسمِ بہار میں یہی خبر کسی نہ کسی اخبار کی شہ سرخی بن جاتی ہے — ‘‘پتنگ کی ڈور نے نوجوان کی جان لے لی’’۔پھر حسبِ روایت ایک نوٹس آتا ہے، ایک رپورٹ طلب کی جاتی ہے، چند دن مہم چلتی ہے، چند گرفتاریاں ہوتی ہیں… اور پھر سب بھول جاتے ہیں۔مگر کیا مرنے والوں کے لواحقین بھول پاتے ہیں؟کیا کسی ماں کے آنسو رپورٹ سے سوکھ جاتے ہیں؟کیا کسی باپ کے دل کا بوجھ نوٹس سے ہلکا ہوتا ہے؟یہ المیہ صرف ایک موت نہیں — یہ ہماری اجتماعی بے حسی کی علامت ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ایک ڈور کے ‘‘رومان’’ نے انسان کی جان کی قیمت ختم کر دی ہے۔ہم وہ قوم ہیں جو آسمان پر پتنگ اڑانے کے جنون میں زمین پر انسانیت بھول گئی۔کبھی کسی کا باپ، کبھی کسی کا بیٹا، کبھی کسی کا بھائی — ہر سال کوئی نہ کوئی اس ‘‘قاتل کھیل’’ کی بھینٹ چڑھتا ہے۔پولیس کے ریکارڈ میں پتنگ ڈور بنانے والے، بیچنے والے اور استعمال کرنے والے روز پکڑے جاتے ہیں، مگر کیا کسی کو واقعی سزا ملتی ہے؟کیا کسی مجرم کو مثال بنایا گیا؟ تو جواب ہے نہیں۔ دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور آئی جی پنجاب عثمان انور نے حسبِ روایت نوٹس لے لیا، رپورٹ مانگ لی، افسوس کا اظہار کر دیا۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا نوٹس زندگی واپس لا سکتے ہیں؟کیا رپورٹوں اور بیانات سے خون میں لتھڑی گردنیں صاف ہو جائیں گی؟یہ وقت ہے کہ صرف نوٹس لینے سے آگے بڑھا جائے۔پتنگ بازی پر مکمل، سخت، اور مؤثر پابندی نافذ کی جائے۔ڈور بنانے والوں کو دہشت گردی کے زمرے میں لایا جائے، کیونکہ ان کے ہاتھوں سے انسانی جانیں جا رہی ہیں۔پولیس کو صرف کارکردگی دکھانے کے لیے گرفتاریاں نہیں، بلکہ سزا یقینی بنانے کے لیے قانونی بنیادیں مضبوط کرنی ہوں گی۔آخر کب تک ہم کسی کے بیٹے کے مرنے پر افسوس کر کے اگلے دن بھول جائیں گے؟آخر کب تک لاہور کی گلیوں میں ڈور نہیں، خنجر اڑتے رہیں گے؟جب تک قانون ہاتھ نہیں پکڑتا،جب تک ہم خود یہ کھیل ‘‘منع’’ نہیں کرتے،تب تک ہر بہار کسی نعمان، کسی اذان، کسی بلال کی زندگی لے کر آئے گی اور لاہور کے آسمان پر پتنگ نہیں، لاشوں کا سایہ اڑتا رہے گا۔