وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا، علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو ہر صورت میں رہا کرائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری 2024 کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے حکم پر حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، اور حکومت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات بانیٔ پی ٹی آئی کے کہنے پر ہی ہوں گے۔ انہوں نے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اختیار بانیٔ پی ٹی آئی کے پاس ہے اور اس کے لیے انہوں نے خود دو مرتبہ تمام رکاوٹوں کو عبور کر کے ڈی چوک تک پہنچنے کی کوشش کی۔دوسری جانب، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے لاہور کے منصورہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 8 فروری 2024 کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں عوام نے ووٹ کسی اور کو دیا تھا، لیکن فارم 47 پر کسی اور کو جتوا دیا گیا۔ ان کے مطابق، اگر فارم 45 پر فیصلے کیے جائیں تو حکومت کے 80 فیصد لوگ فارغ ہو جائیں گے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو تقویت دینے کے بجائے ری الیکشن کی بات کی جانی چاہیے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ انہیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو فارم 45 کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں جہاں لوگوں نے جماعت اسلامی یا پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، وہاں ایم کیو ایم کو جتوا دیا گیا، جس سے جیتنے والے امیدواروں کی نمائندگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔