جیل میں بیٹھا ذہنی مریض اور اس کے حواری صبح ہوتے ہی فوج کیخلاف شروع ہو جاتے ہیں، ذہنی مریض کی سیاست ختم ہوچکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

 ذہنی مریض قومی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ عزائم کامیاب نہیں ہونے دینگے:ترجمان پاک فوج
تم ہو کون ، کس کی زبان بول رہے ہو ، تم سمجھتے  کیا  ہواپنے آپ کو؟ ذہنی مرض کی بیماری کی علامات آپ نے پہلے بھی دیکھی تھیں ،  اس شخص کا باپ بھی پاک فوج اور عوام کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتا
اس نے پہلے 9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملہ  کرایا‘ یہ سمجھتا ہے پاک فوج میں جو بندہ ہے وہ غدار ہے،  وہ سمجھتا ہے  اس کو سارا علم ہے اور باقی سب غلط ہے،اپنے بیٹوں کو تو تم نے باہر رکھا ہوا ہے ‘ذرا انہیں خوارج کے آگے تو کھڑا کرو
 ہمیں کلیئر ہے  اس کی سیاست یا اسکی ذات ریاست سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی ،  ریاست فوج نہیں ہوتی، ریاست حکومت ہوتی ہے اور فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے، ہم کہیں نہیں جارہے، گورنر راج کا فیصلہ حکومت کرے گی
ہم پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ کا احترام کرتے ہیں مگر فوج کو اپنی سیاست سے دور رکھیں،  کسی کو اجازت نہیں دیں گے  وہ پاکستان کی افواج اور عوام کے بیچ دراڑیں ڈالے‘ شخص بار بار شیخ مجیب الرحمان کی بات کرتا ہے
 ایک شخص کی خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں وہ کہتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں، یہ سمجھتے ہیں  عوام کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے، اب  ہمیں بتانا پڑے گا  یہ بیانیہ کون چلارہا ہے: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
راولپنڈی(آئی این پی) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے کہا ہے  ذہنی مریض کی سیاست ختم، اسکا بیانیہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا،تم ہو کون ، کس کی زبان بول رہے ہو ، تم سمجھتے ہو کیا اپنے آپ کو؟ ذہنی مرض کی بیماری کی علامات آپ نے پہلے بھی دیکھی تھیں ، اس نے پہلے 9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کرایا؟ یہ سمجھتا ہے پاک فوج میں جو بندہ ہے وہ غدار ہے،  وہ سمجھتا ہے کہ اس کو سارا علم ہے اور باقی سب غلط ہے، ہمیں کلیئر ہے کہ اس کی سیاست یا اسکی ذات ریاست سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی ، یہ ایک ذہنی مرض ہے،  یہ ایک ٹیرر کرائم نیکسس ہے، یہ منشیات ، این سی پی ، اغوا برائے تاوان اور بے تحاشا چیزوں میں ہے ، اس شخص کا باپ بھی پاک فوج اور عوام کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتا، ریاست فوج نہیں ہوتی، ریاست حکومت ہوتی ہے اور فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے، ہم کہیں نہیں جارہے، جب تک پاکستان ہے فوج رہے گی، ہم پاکستان کی سیاسی لیڈرشپ کا احترام کرتے ہیں مگر فوج کو اپنی سیاست سے دور رکھیں،  کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ پاکستان کی افواج اور عوام کے بیچ دراڑیں ڈالے، آپ کو اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کو افواج کے خلاف بھڑکائیں،فوج اور عوام کے درمیان خلا ڈالنے کی اجازت ہم آپ کو نہیں دیں گے،پاکستان سے بڑھ کرکچھ نہیں، ایک شخص کی خواہشات اس حد تک بڑھ چکی ہیں وہ کہتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں،بیمار ذہنوں کے بارے میں قوم واضح طور پر جان چکی ہے، منفی بیانیہ ختم کرنے کی ضرورت ہے، یہ شخص بار بار شیخ مجیب الرحمان کی بات کرتا ہے، آپ کی سیاسی شعبدے بازی کا وقت ختم ہوگیا،تاریخ میں پاک فوج نے کسی شخص کے بارے میں ایسی بات نہیں کی کیوں کہ ماضی میں کسی سیاست دان نے ایسا کام نہیں کیا، ان کی سیاست صرف پاک فوج کے گرد گھومتی ہے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے مگر ایسا نہیں ہے، اب وقت ہے کہ ہمیں بتانا پڑے گا کہ یہ بیانیہ کون چلارہا ہے،اپنے بیٹوں کو تو تم نے باہر رکھا ہوا ہے ذرا انہیں خوارج کے آگے تو کھڑا کرو۔سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری  نے کہا  آپ اور ہم سب کو مبارکباد ہو ڈیفنس آف فورسز ہیڈکوارٹر کا آغاز ہو چکا ہے یہ جنگی معاملات پر مکمل آگاہی فراہم کرے گا، وارفیئر کا کریکٹر چینج ہوا ہے، ہیڈکوارٹر اس میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ہے، اس سے  متعلق اب سیاست ختم ہو چکی ہے کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم پاکستان کی آرمڈ فورسز ہیں، ہم کسی علاقے، لسانیت، مذہبی جھکا، سیاسی سوچ یا مکتب فکر کی نمائندگی نہیں کرتے، ہم میں پاکستان کے ہر علاقے، مسلک، زبان اور سوچ کے لوگ موجود ہوتے ہیں، ہم کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا لے کر نہیں چلتے ہیں۔انہوں نے کہا  شاید میری یہ بات عجیب لگے لیکن وہ شخص جو بیانیہ بنا رہا ہے قومی سلامتی کیلیے خطرہ بن چکا ہے۔ایسے کسی بیانیے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو سکیورٹی اور ڈیفنس فورسز کے خلاف ہو۔ اس کی سیاست ختم ہو چکی ہے، دو دن پہلے ذہنی مریض نے ٹوئٹ کی، اب بات اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہمیں کھل کر بولنا پڑے گا، ان کا سب سے بڑا سہولت کار بھارتی میڈیا ہے، ذہنی مریض نے جو ٹوئٹ کی اس پر غور کریں، آپ کس فوج کے خلاف بیانیہ بتاتے ہیں؟ کس فوج کے خلاف اور کس پیٹرن میں بیانیہ بنایا جا رہا ہے؟۔انہوں نے مزید کہا کہ کون چاہتا ہے جو فوج خوارج کے خلاف ڈھال بنی ہوئی ہے اس پر حملے کرے، یہ بیانیہ ان کی جماعت کے اکانٹ سے چلتا ہے، اس بیانیے کو ان کا اپنا سوشل میڈیا اکانٹ پھر بھارت پھر افغانستان کا سوشل میڈیا چلاتا ہے، ایک اکانٹ ہے پوری پارٹی کو نہیں پتہ کہاں سے چلتا ہے، آپ کس فوج کے خلاف بیانیہ بناتے ہیں؟ بھارتی اور افغان میڈیا جو بیانیہ بنا رہے ہیں کیا وہ فری لنچ ہے؟ ذہنی مریض کے ٹوئٹ کی ٹائمنگ دیکھیں، ذہنی مریض کے ٹوئٹ کے بعد بھارتی اور افغان میڈیا کا کردار بھی دیکھ لیں، افغانستان اور بھارت ان کا بیانیہ آگے بڑھاتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہماری مسلح افواج پاکستان کی محافظ ہیں، تمام بے نامی اکانٹس پاکستان سے باہر ہیں، اصل بیانیہ اس ذہنی مریض نے دیا، ری پبلک، انڈیا ٹو ڈے، این ڈی ٹی وی نے پروپیگنڈا شروع کر دیا، یہ بھارتی را کے اکانٹ ہیں جو اس بیانیے کو اٹھا رہے ہیں، اپنی سیاست خود کریں فوج کو اس سے دور رکھیں،انہوں نے کہا  تم فوج پر تنقید کرتے ہو، ذرا دہشت گردوں کے آگے تو آئو، اپنے بیٹوں کو تو تم نے باہر رکھا ہوا ہے ذرا کھڑا تو کرو انہیں خوارج کے آگے،  بھیجو اپنی اولاد کو فوج میں، مسلح افواج کے خلاف نفرت کا بیج بویا جارہا ہے حالانکہ  پاک فوج کا جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں جاتا ہے، خوارج کے سامنے کون کھڑا ہوتا ہے؟ کون اپنی جانیں دیتا ہے؟ ہم نے جانیں دینی اور لینی ہوتی ہیں۔