آسام: عوامی مقامات پر گائے کا گوشت کھانے پر پابندی

آسام: عوامی مقامات پر گائے کا گوشت کھانے پر پابندی

بھارت کی ریاست آسام میں حکومت نے کھلے اور عوامی مقامات پر گائے کا گوشت کھانے پر پابندی لگا دی ہے۔

 اس پابندی کا اطلاق ریسٹورنٹس، تقریبات، اور دیگر عوامی مقامات پر ہوگا۔ تاہم، گائے کا گوشت دکانوں سے خرید کر گھروں میں کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے اس فیصلے کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی ایک سابقہ قانون کی توسیع ہے، جس کے تحت مندروں کے قریب گائے کا گوشت فروخت کرنے پر پابندی تھی۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ گائے کو ہندو مذہب میں مذہبی طور پر بہت اہمیت دی جاتی ہے، اور کئی جگہوں پر گائے کو ذبح کرنے پر پابندی ہے۔

اس قانون کا مقصد گائے کے گوشت کی کھپت کو عوامی سطح پر کم کرنا ہے، جس پر مختلف علاقوں میں ہندو جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے باوجود، یہ فیصلہ تنازعات کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ بھارت میں مختلف اقلیتی گروہ بھی موجود ہیں، جو اس قانون کو ان کے حقوق پر حملہ سمجھتے ہیں۔آسام حکومت کی اس نئی پابندی سے گائے کے گوشت کی خرید و فروخت پر مزید کنٹرول ہوگا، خاص طور پر عوامی سطح پر اس کی موجودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔