قومی اسمبلی میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ایک قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی گئی ہے۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ اس سلسلے میں، وفاقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مناسب قوانین بنائے جائیں، اور ڈیجیٹل حقوق، قواعد و اخلاقیات کے بارے میں آگاہی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔دوسری جانب، پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025 بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس پر اعتراضات بھی سامنے آئے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ یہ بل کیا ہے، اس بارے میں ایوان کو بتایا جائے۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ یہ بل سینیٹ اور قائمہ کمیٹی سے منظور شدہ ہے، اور اس کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو دوسری شہریت کے لیے پاکستانی شہریت ترک کرنے کی ضرورت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی ممالک، بشمول جرمنی، کے ساتھ یہ معاہدہ ہو چکا ہے، جس کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو دوسری شہریت کے لیے پاکستانی شہریت ترک کرنا ضروری نہیں رہے گا۔
اس کے علاوہ، موٹر وہیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ بل 2025 بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جسے کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اسی طرح، سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل 2025 بھی منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔اس دوران، مختلف آرڈیننس بھی پیش کیے گئے، جن میں وفاقی ترقیاتی ادارہ ترمیمی آرڈیننس 2025 اور نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی آرڈیننس 2025 شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن سید نوید قمر نے تنقید کی کہ پارلیمنٹ کے جاری سیشن کے بعد بھی متعدد آرڈیننس لائے جا رہے ہیں، جو پارلیمنٹ کی رٹ کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ رانا تنویر حسین نے جواب دیا کہ آرڈیننس آئین کا حصہ ہیں اور ضرورت کے بغیر جاری نہیں ہوتے۔اجلاس کے دوران، تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن سے متعلق ایک سوال پر پارلیمانی سیکرٹری نے انکشاف کیا کہ انہیں ڈیپارٹمنٹ سے بریفنگ نہیں دی گئی، اور وہ اس بابت بالکل تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر بہت پریشان ہیں کہ انہیں مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔