پنجاب میں چہلم امام حسینؑ کے موقع پر 61 اشتعال انگیز مقررین کے داخلے پر پابندی عائد

پنجاب میں چہلم امام حسینؑ کے موقع پر 61 اشتعال انگیز مقررین کے داخلے پر پابندی عائد

پنجاب حکومت نے چہلم حضرت امام حسینؑ کے موقع پر امن و امان کو یقینی بنانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔

 اس ضمن میں، 61 اشتعال انگیز مقررین کے صوبہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔یہ اقدام پنجاب ایم پی او آرڈیننس 1960 کی دفعہ 5(1)(اے) کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز بیانات اور سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ایس پی آئی جی پنجاب کے دفتر سے 91 مقررین کی فہرست ہوم ڈیپارٹمنٹ کو موصول ہوئی، جس کے بعد تحقیقات کے نتیجے میں 61 افراد پر پابندی کی منظوری دی گئی۔ اس منظوری کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

دریں اثنا، کچھ معروف مقررین، جن میں علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ شبیر الحسن طاہری، ساجد نقوی اور اشتیاق حسین کاظمی شامل تھے، نے فہرست میں شامل ہونے پر اعتراضات جمع کروائے۔ ان اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد ان کے نام فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں۔پولیس اور انتظامیہ نے چہلم اور دیگر مزارات پر ہونے والے عرس کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات مکمل کر لیے ہیں، جس میں پاک فوج اور رینجرز کی تعیناتی بھی شامل ہو سکتی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹا جا سکے۔