پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم نے کھل کر اعتراف کیا ہے کہ وہ آج بھی بالی ووڈ کو شدت سے یاد کرتے ہیں۔
عاطف اسلم، جو اس وقت بیرونِ ملک کنسرٹس میں مصروف ہیں اور کینیڈا کے دورے پر لگاتار پرفارم کر رہے ہیں، نے بھارتی نژاد کینیڈین میزبان و صحافی فریدون شہریار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:"پاکستان میں وسائل محدود ہیں اور بڑے گلوکار بھی زیادہ نہیں، لیکن اللہ کے کرم سے مجھے بالی ووڈ جیسا بڑا پلیٹ فارم ملا۔ میں شکر گزار ہوں کہ دنیا کے اتنے بڑے پلیٹ فارم پر چمکنے کا موقع ملا، وہاں گزرے لمحے یاد آتے ہیں۔"انہوں نے مزید کہا کہ "آٹھ، دس سال ہو گئے ہیں بالی ووڈ میں ریکارڈنگ کیے ہوئے۔ وہاں پرفارم کرنے، اسٹوڈیوز میں گانے اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کو دل کرتا ہے۔ جا تو نہیں سکتا، لیکن کمی ضرور محسوس ہوتی ہے۔"عاطف اسلم نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے دبئی میں وشال-شیکھر کے ساتھ کام کرنے کو یادگار قرار دیا اور بتایا کہ جب انہوں نے پہلی بار مدھم سُروں میں گایا تو سامعین کے لیے ایک نیا جادو تخلیق ہوا۔
اس دوران انہوں نے سلمان خان کے لیے گائے گئے اپنے مشہور نغمے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ "سلمان خان کے لیے گانا ہمیشہ خوشی کی بات ہے، وہ شاندار شخصیت کے مالک ہیں۔"جہاں مداحوں نے عاطف اسلم کی سادگی اور کھلے دل سے کی گئی باتوں کو پسند کیا، وہیں سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ ناقدین نے کہا کہ "پاکستانی فنکار بالی ووڈ کی تعریف کرنے سے باز نہیں آتے۔" بعض صارفین نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ "عاطف اسلم کو عدنان سمیع کی طرح بھارتی شہریت لے لینی چاہیے۔"