لاہور میں وارداتوں کا بھی سیلاب آگیا‘8ماہ میں65ہزارواقعات ملزم آزاد‘شہری لاوارث

وارداتوں میں شہریوں کو اربوں روپے  ، طلائی زیورات ، قیمتی اشیا ، گاڑیاں ، موٹرسائیکلوں ، موبائیل فون اور دیگر اشیاء  سے محروم کر دیا گیا

لاہور(کاشف بٹ ) لاہور میں وارداتوں کا سیلاب، پولیس ریکارڈ نے  حقیقت کھول دی8ماہ میں 65ہزار سے زائد واردتیں رپورٹ، شہر میں شہریوں کی زندگی خوف اور غیر یقینی کا شکار ، زرائع کے مطابق لاہور میں چوری، ڈکیتی، راہزنی، نقب زنی اور متفرق چوری کی وارداتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں 65181 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال 2024 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 88680 تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق:ڈکیتی: رواں سال 24، گزشتہ سال 59 وارداتیں،راہزنی: رواں سال 2889، گزشتہ سال 10451 وارداتیں،جھپٹا مار وارداتیں: رواں سال 2957، گزشتہ سال 5711،نقب زنی کی رواں سال 2407، گزشتہ سال 3117، متفرق چوریوں کی رواں سال 56904، گزشتہ سال 69342 وارداتیں رپورٹ ہوئیں یوں وارداتوں میں بظاہر 35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے مگر اس کے باوجود ان وارداتوں میں شہریوں کو اربوں روپے مالیت کی ، نقدی ، طلائی زیورات ، قیمتی اشیا ، گاڑیاں ، موٹرسائیکلیں ، موبائیل فون اور دیگر اشیا سے محروم کر دیا گیا  اس کے برعکس ریکوری نہ ہونے کے برابر رہی جبکہ مدعی مقدمات انصاف کے حصول کے لیے تفتیشی افسران اور دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیںذرائع کے مطابق پولیس کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ملزمان کی گرفتاری نہ ہونا ہے۔ ملزمان کی عدم گرفتاری کے باعث بروقت عدالتوں میں چالان پیش نہ ہونا ہے  اس کی وجہ سے شہر میں شہریوں کی زندگی خوف اور غیر یقینی کا شکار ہے جبکہ پولیس کے دعوے اور کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔