ایران نے پڑوسی اور علاقائی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے ان کی سرزمین یا فوجی تنصیبات استعمال کی گئیں تو تہران کا ردعمل پہلے سے مختلف ہوگا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنے اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے، بالخصوص ان ممالک کو جنہوں نے حالیہ جنگ کے دوران اپنی تنصیبات امریکا اور اسرائیل کے استعمال کے لیے فراہم کیں۔اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی اور کسی علاقائی ملک کی سرزمین اس مقصد کے لیے استعمال ہوئی تو ایران کا ردعمل مختلف ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، تاہم ایران کے خلاف کارروائی کے لیے دوسرے ممالک کی جانب سے سہولت کاری کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ایرانی ترجمان نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین اور فوجی تنصیبات کو ایسے فریقوں کے استعمال سے روکیں جو ایران کے مطابق خطے میں فوجی کارروائیوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے حالیہ عرصے میں اپنے علاقائی ہمسایوں تک اپنے تحفظات واضح طور پر پہنچائے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ تہران کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ کسی نئی امریکی فوجی کارروائی کی صورت میں ایران کا ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوسکتا ہے۔رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے ممکنہ جوابی کارروائی کے دائرے کو امریکی تنصیبات سے آگے ان ممالک تک بڑھانے پر بھی غور کیا ہے جو امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سمیت دیگر معاملات پر اپنی شرائط پیش کرچکا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں اہم اختلافات بدستور موجود ہیں۔