فریقین کے درمیان مسودے پر اتفاق نہیں ہو سکا، فریقین نے ناکامی کا ذمے دار ایک دوسرے کو قرار دے دیا،مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی تھی،مسلم لیگ ن ہر معاملے پر نواز شریف اور شہباز شریف سے مشاورت کرتی ہے :اسد قیصر
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سہیل آفریدی رکاوٹ بن گئے،حکومت پی ٹی آئی 13گھنٹے طویل مذاکرات ناکام ہوگئے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہفتے کی دوپہر سے جاری مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے لانگ مارچ شروع کر دیا۔فریقین کے درمیان مسودے پر اتفاق نہیں ہو سکا، جس پر فریقین نے ناکامی کا ذمے دار ایک دوسرے کو قرار دے دیا، اس نئی ڈویلپمنٹ کے بعد مذاکراتی کمیٹی کے ارکان سپیکر چیمبر سے چلے گئے۔مذاکرات کے بعد حکومتی وفد نے میڈیا سے گفتگو کی۔اپوزیشن کے مذاکراتی رکن اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی کو قرار دے دیا۔پشاور سے جاری اپنے بیان میں اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ سب سے پہلے سیاسی قیادت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے تمام مطالبات واپس لینے کی پیشکش کی اور کہا کہ ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ سیاسی قیادت کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے۔سابق سپیکر کا کہنا تھا حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی کا معاملہ فی الحال معاہدے میں شامل نہیں ہوگا اور قابلِ غور بھی نہیں ہے، جس کے باعث مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوا۔اسد قیصر نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی جاتی تو پالیسی کیسے بنے گی؟ مسلم لیگ ن ہر معاملے پر نواز شریف اور شہباز شریف سے مشاورت کرتی ہے جب کہ پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری سے مشاورت کرتی ہے۔اپوزیشن کے مذکراتی رکن کا کہنا تھا کہ ہمارا لیڈر بانی پی ٹی آئی ملک کا مقبول ترین سیاسی رہنما ہے اور وہ اس وقت جیل میں ہیں، ایسے میں جو بھی پالیسی بنے گی کیا ہم عمران خان سے مشاورت نہیں کریں گے اور ان سے ہدایات نہیں لیں گے؟ یہی اپوزیشن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔