طیاروں کی سیفٹی کلیئرنس روک دی گئی ، یہ احتجاج یا ہڑتال نہیں :سیپ،مقصد نجکاری کو سبوتاڑ کرنا ہے:انتظامیہ
لاہور (خصوصی رپورٹ)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا ،ایئرکرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی سیفٹی کلیئرنس روک دی ،متعدد پروازیں منسوخ،قومی ایئرلائن کی 6 پروازیں اڑان نہ بھر سکیں،متاثرہ پروازوں میں لاہور سے مدینہ، اسلام آباد اور کراچی سے جدہ جانے والی پروازیں شامل ہیں جبکہ لاہور سے ابوظہبی اور اسلام آباد سے دمام و دبئی جانے والی پروازیں بھی تاخیر یا منسوخی کا شکار ہوئیں۔سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز پاکستان(سیپ ) کے مطابق سیفٹی خدشات کے پیش نظر جہازوں کی تکنیکی تصدیق عارضی طور پر معطل کی گئی ،ضوابط کی خلاف ورزیوں اور دبائو کے باعث وہ غیر محفوظ حالات میں کام جاری نہیں رکھ سکتے ،یہ احتجاج یا ہڑتال نہیں بلکہ ضابطہ جاتی اقدام ہے ، پی آئی اے انتظامیہ نے تاحال مذاکرات کا آغاز نہیں کیا۔دوسری جانب ترجمان پی آئی اے نے اس اقدام کو مذموم سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تحریک کا بنیادی مقصد پی آئی اے کی نجکاری کو سبوتاڑ کرنا ہے،سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ،ہڑتال یا کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے، ملوث افراد کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔پی آئی اے حکام کے مطابق آپریشن کو متبادل ذرائع سے بحال کیا جا رہا ہے۔ پی کے 245 (اسلام آباد تا دمام)اور پی کے 761(اسلام آباد تا جدہ)سمیت کچھ پروازیں روانہ کر دی گئی ہیں جبکہ دیگر پروازوں کی ٹیک لاگز کلیئر کروا کر انہیں بھی روانہ کیا جا رہا ہے۔واضح رہے پی آئی اے ایئرکرافٹ انجینئرز کی تنظیم سیپ نے تنخواہوں اور الائونسز میں اضافے نہ ہونے پر گزشتہ سے پیوستہ شب اچانک کام بند کردیا تھا۔