شرح سود 17.5 فیصد سے کم ہوکر 15 فیصد ہوگئی ‘سخت زری پالیسی موقف مہنگائی میں کمی کے رجحان کو برقرار رکھنے میں بدستور کردار ادا کررہا ہے
زری پالیسی موقف سے معاشی استحکام کو تقویت ملے گی ‘ معاشی نمو حاصل کرنے میں مدد ملے گی‘ پالیسی ریٹ کو250 بی پی ایس کم کرکے 15 فیصد کردیا
کراچی (آئی این پی ‘مانیٹرنگ ڈیسک) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کااعلان کردیا جس کے مطابق شرح سود میں 2.5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، شرح سود میں 2.5 فیصد کمی کی گئی جس کے بعد شرح سود 17.5 فیصد سے کم ہوکر 15 فیصد ہوگئی ہے۔ سٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا جس کے مطابق شرح سود میں مزید ڈھائی فیصد کمی کردی گئی جس کے بعد شرح سود 15 فیصد کی سطح پر آگئی۔ مانیٹری پالیسی کے اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو250 بی پی ایس کم کرکے 15 فیصد کردیا، پچھلے ایم پی ایس اجلاس کے بعد مہنگائی توقع سے زیادہ تیزی سے کم ہوئی ہے اور اکتوبر میں اپنے وسط مدتی ہدف کے قریب پہنچ گئی۔زری پالیسی کمیٹی نے کہا ہے سخت زری پالیسی موقف مہنگائی میں کمی کے رجحان کو برقرار رکھنے میں بدستور کردار ادا کررہا ہے، غذائی مہنگائی میں تیزی سے کمی، تیل کی سازگار عالمی قیمتوں اور گیس ٹیرف اور پی ڈی ایل ریٹس میں متوقع ردوبدل کی عدم موجودگی نے ارزانی کی رفتار بڑھا دی۔کمیٹی نے اعلامیے میں کہا ہے زری پالیسی موقف مہنگائی کو 5-7 فیصد ہدف کی حدود میں رکھتے ہوئے پائیدار بنیادوں پرقیمتوں کے استحکام کا مقصد حاصل کرنے کے لیے مناسب ہے، زری پالیسی موقف سے معاشی استحکام کو تقویت ملے گی اور پائیدار بنیاد پر معاشی نمو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔