چین میں آتش بازی فیکٹری دھماکہ، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی؛ صدر شی جن پنگ نے تحقیقات کا حکم دے دیا

چین میں آتش بازی فیکٹری دھماکہ، 21 افراد ہلاک، 61 زخمی؛ صدر شی جن پنگ نے تحقیقات کا حکم دے دیا

چین کے صوبہ ہونان کے شہر لیویانگ میں آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں خوفناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک جبکہ 61 زخمی ہو گئے۔

 چینی سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکہ پیر کی شام تقریباً 4 بج کر 43 منٹ پر لیویانگ ہواشینگ فائر ورکس مینوفیکچرنگ اینڈ ڈسپلے کمپنی میں پیش آیا۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں پہاڑوں سے گھرے دیہی علاقے میں دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے اور وقفے وقفے سے مسلسل دھماکے ہوتے دکھائی دیے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کی چھتیں اڑ گئیں، کئی گھروں کے دروازے اور شیشے ٹوٹ گئے جبکہ آتش گیر مواد گرنے سے اطراف کی دیگر عمارتوں میں بھی آگ بھڑک اٹھی، جس پر بعد ازاں قابو پا لیا گیا۔مقامی حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے اور 480 سے زائد امدادی اہلکاروں کے ساتھ خصوصی ماہرین اور ریسکیو روبوٹس بھی متاثرہ مقام پر تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے۔ فیکٹری کے قریب بارود کے دو گودام موجود ہونے کے باعث مزید دھماکوں کے خطرے کے پیش نظر تین کلومیٹر تک کنٹرول زون قائم کرکے آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے کمپنی کے ذمہ داران میں سے ایک اہم عہدیدار کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔شی جن پنگ نے لاپتہ افراد کی تلاش، زخمیوں کے علاج اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے ملک بھر میں صنعتی حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔واضح رہے کہ لیویانگ چین میں آتش بازی کی صنعت کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں سے ملک میں فروخت ہونے والے تقریباً 60 فیصد اور برآمد کیے جانے والے 70 فیصد تک آتش بازی کے سامان کی تیاری ہوتی ہے، اسی لیے اس سانحے نے قومی سطح پر صنعتی سیفٹی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔