نجی سکولوں کی رجسٹریشن ، تجدیدی نظام میں تبدیلیاں

فیس سٹرکچر کی تفصیلات فراہم کرنا اور 10 فیصد مستحق طلبہ کو داخلہ دینا لازمی قرار 
لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب حکومت نے نجی سکولوں کی رجسٹریشن اور تجدید کے نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروا دیں جسکے تحت متعدد نئی شرائط عائد کرکے پورے عمل کو آن لائن کر دیا گیا۔محکمہ تعلیم کے مطابق نجی سکولوں کیلئے فیس سٹرکچر کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ کم از کم 10 فیصد مستحق طلبہ کو داخلہ دینا بھی اب ہر سکول پر لازم ہوگا۔ مرکزی شاہراہوں پر واقع سکولوں کیلئے زیبرا کراسنگ اور واضح سائن بورڈز کی تنصیب بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سکول رجسٹریشن عمل میں شفافیت کیلئے اسے PEPRIS سسٹم کے تحت ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے جس سے رشوت اور اثر و رسوخ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ سکیورٹی، صفائی اور بنیادی سہولیات بھی لازمی قرار،سکیورٹی کیمروں کی تنصیب اور اینٹی ڈینگی ایس او پیز پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔ پنجاب سیفٹی ایپ اور گرین سکول ایپ پر رجسٹریشن بھی لازمی ہوگی۔ بلڈنگ فٹنس اور ہائیجین سرٹیفکیٹس جمع کرانا ہونگے، جو رجسٹریشن کیلئے بنیادی دستاویزات میں شامل ہونگے۔ فرنچائز سکولوں کیلئے ہیڈ آفس سے این او سی حاصل کرنا بھی ضروری قرار ،نجی سکولوں کو کم از کم 50 فیصد طلبہ کو ٹرانسپورٹ سہولت دینا ہوگی، ریگولیٹری نگرانی کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ اقدامات کا مقصد تعلیمی اداروں میں معیار، شفافیت اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے جبکہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رجسٹریشن کو آسان اور مو? ثر بنایا جائے گا۔