اسلام آباد (بیورو رپورٹ)باوثوق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2027 ء کے بجٹ میں سخت مالیاتی اقدامات متوقع ہیں، وزارت خزانہ پاکستان بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، سیلز ٹیکس استثنیٰ میں کمی اور سرکاری اخراجات محدود کرنے پر غور کر رہی ہے، حکومت کا ہدف ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافہ اور قرضوں کے بوجھ کو 70 فیصد تک لانا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس ہدف تقریباً ساڑھے 15 ہزار ارب روپے مقرر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت اورآئی ایم ایف کے درمیان آئندہ بجٹ کے اہم اہداف پر مشاورت جاری ہے۔آئی ایم ایف نے پیشگوئی کی ہے کہ عالمی حالات سازگار رہے اور اصلاحات پر عمل جاری رہا تو درمیانی مدت میں شرح نمو 5.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، دستاویز کے مطابق مالی سال 2026 میں صنعتی شعبے، آٹو موبائل، تعمیرات اور گارمنٹس میں بہتری دیکھی گئی ،زرمبادلہ ذخائر فروری 2026 تک 16اعشاریہ3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، شرح نمو 4 سے 4اعشاریہ 5 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ حکومت نے بنیادی سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا 1اعشاریہ6 فیصد مقرر کیا ، رواں سال پہلے نصف میں 4اعشاریہ1 کھرب روپے کا سرپلس حاصل کیا گیا۔محصولات میں واجب الادا ٹیکسز کی وصولی سے 322 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے۔