ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر اطلاعات کی بریفنگ، قومی یکجہتی اور بھارتی جارحیت پر سخت ردعمل

ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر اطلاعات کی بریفنگ، قومی یکجہتی اور بھارتی جارحیت پر سخت ردعمل

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی سیاسی جماعتوں کو ان کیمرہ بریفنگ کے دوران شریک رہنماؤں نے بھارتی دہشت گردی اور خطے کی صورتحال پر اہم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کئی اہم نکات پر اتفاق کیا۔

ذرائع کے مطابق شرکاء نے کہا کہ جعفر ایکسپریس جیسے حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد عالمی سطح پر اجاگر کیے جائیں گے۔ بھارت کا سیاہ چہرہ اقوامِ عالم کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا، جس نے ماضی میں پہلگام جیسے واقعات کا الزام پاکستان پر ڈال کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔شرکاء نے مؤقف اپنایا کہ بھارت آج تک اپنے لگائے گئے الزامات کے شواہد پیش نہیں کرسکا جبکہ پاکستان کے پاس بھارتی مداخلت کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں، جو دنیا کے سامنے لائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاسی قیادت متحد ہے اور افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔بریفنگ میں بھارتی آبی جارحیت کے منصوبوں کو پاکستان کی ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ملکی سلامتی اور وقار کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ کشمیر کے معاملے پر بھی شرکاء نے مکمل اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد بھارت نے الزام پاکستان پر عائد کیا، سندھ طاس معاہدہ معطل کیا اور پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کے احکامات دیے۔ ردعمل میں پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں اور اقوام متحدہ سے واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا، جسے بھارت نے نظرانداز کیا۔ترکیہ، چین اور سوئٹزرلینڈ نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے جبکہ روس، امریکا اور یورپی یونین نے بھی بھارت کو مسائل مذاکرات سے حل کرنے کا مشورہ دیا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق بھارت کی مسلسل الزامات کی سیاست اور جنگی جنون کے باعث اسے عالمی سطح پر ناکامی کا سامنا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف عالمی برادری میں پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔