لاہور میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی مکمل انڈر گراؤنڈ بلیو لائن میٹرو ٹرین سروس شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ زندہ دلان لاہور کو جدید سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال میں لاہور میں بلیو لائن منصوبہ لانچ کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ فزیبیلٹی اور ڈیزائن ورک تیز کر دیا گیا ہے، اور پنجاب ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) نے عملی کام شروع کر دیا ہے۔
منصوبے کی اہم خصوصیات:
لمبائی: 27 کلومیٹر
ٹریک: ویلنشیا ٹاؤن سے بابو صابو چوک تک مکمل انڈر گراؤنڈ
اہم اسٹیشنز: جوہر ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، کلمہ چوک، گلبرگ، جیل روڈ، فیروزپور روڈ، وحدت روڈ، علامہ اقبال ٹاؤن
سفر کی صلاحیت: یومیہ ڈھائی لاکھ سے زائد مسافر
متوقع لاگت: 600 ارب روپے سے زائد
تکنی کی خصوصیات: ٹنل بورنگ مشینری روزانہ 6 میٹر تک کھدائی کر سکے گی
فنانسنگ اور اسٹڈیز:
چین، جاپان اور فرانس کی مالیاتی کمپنیوں نے بلیو لائن کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے۔
2016 میں جاپانی ادارہ جائیکا اور ترکی کے کنسلٹنٹس نے ابتدائی اسٹڈی مکمل کی تھی۔
جون 2024 میں نئی ٹرانسپورٹ اسٹڈی کرائی گئی، جس میں پورے روٹ کو مکمل انڈر گراؤنڈ کرنے کی تجویز دی گئی۔
پہلی اسٹڈی میں صرف 12 کلومیٹر انڈر گراؤنڈ تجویز تھا، اب پورا روٹ زیر زمین ہوگا۔
شیڈول اور بجٹ:
منصوبے کو 3 سال میں مکمل کرنے کا ہدف
آئندہ بجٹ میں ابتدائی فنڈنگ اور PC-1 کی تیاری متوقع
مالی سال 2027-2026 میں بلیو لائن منصوبے کو بجٹ میں شامل کرنے کی تجویز
وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ فزیبیلٹی اور ڈیزائن جلد مکمل کریں تاکہ لاگت، فنانسنگ ماڈل اور تعمیراتی ٹائم لائن واضح ہو سکے۔