ایرانی جوہری پروگرام روس-امریکا مذاکرات کا حصہ بنے گا: کریملن

ایرانی جوہری پروگرام روس-امریکا مذاکرات کا حصہ بنے گا: کریملن

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ روس اور امریکا کے درمیان مستقبل میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیل سے بات چیت شامل ہوگی۔

پیسکوف کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ امریکا اور روس کے درمیان ابتدائی بات چیت کے دوران بھی ایرانی جوہری پروگرام پر مختصر گفتگو کی گئی تھی۔ تاہم، اب ایران کا جوہری پروگرام ان موضوعات میں شامل ہے جس پر امریکا اور روس مستقبل میں مزید تفصیل سے بات کریں گے۔پیسکوف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران روس کا ایک اہم اتحادی اور شراکت دار ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ جامع، باہمی فائدہ مند، اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ روس کا موقف ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے کو پُرامن، سیاسی اور سفارتی طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے، اور اس سلسلے میں امریکا کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ روس اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔اس کے علاوہ، ایک امریکی جریدے نے حال ہی میں رپورٹ کیا کہ روس نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت میں مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت مختلف امور پر گفتگو کرنے کے لیے تیار ہے۔