ڈی چوک احتجاج:22 کارکنوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

اسلام آباد، لاہور (خصوصی رپورٹ )جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد گوندل کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمہ میں گرفتار پی ٹی آئی 22 کارکنوں کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کردیں۔گذشتہ روز محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئیعدالت نے تمام 22 ملزموں کی ضمانتوں کی درخواستیں مسترد کرنے کا حکم سنادیا، 22 کارکن جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، عدالت نے دلائل مکمل ہونے پرپیر کے روز فیصلہ محفوظ کیا تھا،پی ٹی آئی ورکرز کیخلاف 26 نومبر احتجاج پر تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں جناح ہا ئوس، عسکری ٹاور حملہ اور جلا ئو گھیرا ئو سمیت 8 مقدمات کی سماعت ہوئی. عدالت نے پی ٹی آئی رہنما مسرت جمشید چیمہ اور جمشید اقبال چیمہ کی عبوری ضمانتوں میں 22 مارچ تک توسیع کردی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج منظر علی گل نے سماعت کی. عدالت نے پراسیکیوشن سے مقدمات کا ریکارڈ مانگا تو پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ تمام مقدمات کا ریکارڈ لاہور ہائیکورٹ گیا ہے جس کے باعث عبوری ضمانتوں پر دلائل نہیں دئے جا سکتے۔جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت نیپی ٹی آئی رہنما رئوف حسن کیخلاف ریاستی اداروں کیخلاف پروپیگنڈا سے متعلق مقدمہ میں چالان پیش نہ ہونے ایف آئی اے تفتیشی افسر کو جاری شوکاز نوٹس برقرار رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔لاہور کی سیشن کورٹ نے پی ٹی آئی کی آٹھ فروری کو احتجاج کی کال پر سٹرک بلاک کرنے کے مقدمے میں نامزد یاسر گیلانی کی عبوری ضمانت میں 22 مارچ تک توسیع کردی۔انسدادِ دہشتگری عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت نیپی ٹی آئی کے گرفتار ایم پی اے علی شاہ کوجوڈیشل کردیا۔گذشتہ روز سماعت کے دوران جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس نے گرفتار علی شاہ کو عدالت میں پیش کیا،پراسیکیوشن کیجانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیااور علی شاہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔انسدادِ دہشتگری عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت نے26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما سعد علی خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا۔ سماعت 10 اپریل تک ملتوی کردی۔