شعیب شاہین کی کیسوں کی تفصیلات فراہمی کیس میں وفاقی پولیس نے وقت مانگ لیا
9 مئی کیس :اعجاز چودھری کی ضمانت کی درخواستوں پر رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار
اسلام آباد، لاہور (خصوصی رپورٹ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے 26 نومبر احتجاج کے دوران گرفتار پی ٹی آئی کے 86 کارکنوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیدیا۔گزشتہ روز ضمانت بعد ازگرفتاری کی درخواستوں پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے وکلا علی بخاری، سردار مصروف، زاہد بشیر ڈار و دیگر عدالت پیش ہوئے، فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے ضمانت کی درخواستیں منظور کرنے کا حکم سنادیا،اس موقع پر علی بخاری ایڈووکیٹ کی جانب سے کارکنوں کے ضمانتی مچلکے کم کرنے کی استدعا کی گئی، جسے عدالت نے منظور کرلیا اور تمام 86 کارکنوں کی ضمانت 10، 10 ہزارروپے مالیتی مچلکوں کی عوض منظور کرنے کا حکم سنادیا۔ انسداددہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدم دستیابی کے باعث پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف4اکتوبر احتجاج کے تناظر میں درج مقدمے کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی گئی۔کیس کی آئندہ سماعت 27 جون کو ہوگی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہرکی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین کی کیسوں کی تفصیلات فراہمی کیس میں وفاقی پولیس کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ جمع کروانے کے لیے وقت مانگ لیے جانے پر سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی۔لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی چار مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی ضمانت کی درخواستوں پر رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے دیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اعجاز چودھری کی ضمانت کی اعتراضی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا کہ انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے حقائق کے برعکس اعجاز چودھری کی ضمانت کی درخواستوں کو خارج کیا۔