پنجاب میں شدید آندھی سے تباہی، دیواریں اور چھتیں گر گئیں، 13 سے زائد افراد زخمی

پنجاب میں شدید آندھی سے تباہی، دیواریں اور چھتیں گر گئیں، 13 سے زائد افراد زخمی

بہاولپور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں رات گئے آنے والی شدید آندھی اور گرد آلود طوفان نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف حادثات میں ایک بچی جاں بحق جبکہ 13 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق بہاولپور کے علاقے چنن پیر میں دیوار گرنے سے 15 سالہ اللہ وسائی جاں بحق ہو گئی۔ اسی دوران اندرون شہر ایک اور دیوار گرنے کے واقعے میں 2 بچے زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔بہاولپور کے علاقے غنی گوٹھ اور سی پیک روڈ پر چھتیں گرنے سے 2 خواتین زخمی ہوئیں، جبکہ فتووالی میں سولر پلیٹیں گرنے اور جھانگی والا روڈ پر درخت گرنے کے مختلف واقعات میں مزید 6 افراد زخمی ہوئے۔شدید آندھی کے باعث ذخیرہ جنگل اور بھٹہ خشت کے قریب توڑی میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر ریسکیو ٹیموں نے تقریباً دو گھنٹے کی کوشش کے بعد قابو پایا۔آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی شدید متاثر ہوا۔ مختلف علاقوں میں درخت گرنے اور تاریں ٹوٹنے سے بہاولپور شہر کے 4 سے زائد فیڈرز بند ہو گئے، جس کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ میپکو حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ Provincial Disaster Management Authority نے مغربی سسٹم کے پیش نظر پہلے ہی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ جاری کر رکھا تھا۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 2 سے 5 جون کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آندھی، گرج چمک، بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی گئی تھی۔محکمہ موسمیات نے بھی خبردار کیا تھا کہ شدید موسمی صورتحال کے باعث کمزور اور کچے مکانات، ہورڈنگز اور درخت گرنے جیسے حادثات پیش آ سکتے ہیں، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔