زیادتی و ہلاکت کیس، نئے انکشافات سامنے آگئے

متاثرہ لڑکی کے والد کا مئوقف تبدیل، ویڈیو بیان بھی منظرعام پرآگیا
لاہور(کرائم رپورٹر) لاہور کے علاقے ماڈل ٹائون میں گھریلو ملازمہ کی مبینہ اجتماعی زیادتی، اسقاط حمل اور بعد ازاں ہلاکت کے مقدمے میں نئے انکشافات سامنے آگئے ہیں، جبکہ متاثرہ لڑکی کے والد اپنے مئوقف سے ایک بار پھر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ مالکان کے اجتماعی زیادتی میں ملوث نہ ہونے سے متعلق بیان دبائو کے تحت دیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی ازسرنو تفتیش کی جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب ہلاکت سے قبل متاثرہ لڑکی کا ایک اور ویڈیو بیان بھی منظرعام پر آیا ہے، جس میں اس نے الزام عائد کیا کہ اس کے ساتھ زیادتی ڈرائیور حسن نے کی۔ لڑکی کے مطابق ڈرائیور اسے مبینہ طور پر نیند کی گولیاں کھلا کر زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ ویڈیو بیان میں لڑکی نے یہ بھی کہا کہ اس کے مالکان واقعے میں ملوث نہیں اور انہیں بلاوجہ مقدمے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ ڈرائیور حسن نے اسے مالکان کا نام اجتماعی زیادتی کے الزام میں شامل کرنے پر مجبور کیا۔ پولیس کے مطابق لڑکی نے اپنی وفات سے قبل عدالت میں بھی اسی نوعیت کا تحریری بیان ریکارڈ کروایا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد کا بار بار مئوقف تبدیل کرنا کیس کو مزید مشکوک بنا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق عدالت سے اجازت حاصل کرنے کے بعد مقدمے میں شامل قتل کی دفعات کے تحت بھی تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ تمام پہلوئوں کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ کیس کی حساس نوعیت کے پیش نظر حتمی حقائق کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔