نئی اور منفرد بجلی ٹیرف پالیسی لانے کا جامع منصوبہ تیار، آئندہ 2 ماہ کے اندر ملک بھر میں نافذ کیے جانے کا مکان

بجلی کے کم استعمال پر فکسڈ چارجز کا جھٹکا
 کم بجلی استعمال کرنے والوں پر بھاری فکسڈ چارجز لگا ئے جائیں گے،پہلے مرحلے میں ٹیرف کا اطلاق صنعتی صارفین پر ہوگا، جلد گھریلو صارفین تک توسیع کردی جائے گی، بجلی کی مجموعی طلب میں ایک ہزار میگاواٹ تک کا اضافہ متوقع: ذرائع
 اسلام آباد (بیورو رپورٹ،خصوصی رپورٹ) حکومتِ پاکستان نے ملک کے صنعتی شعبے کے لیے ایک بالکل نئی اور منفرد بجلی ٹیرف پالیسی لانے کا جامع منصوبہ تیار کر لیا، جس کے تحت بجلی کا کم استعمال کرنے والی صنعتوں پر بھاری فکسڈ چارجز عائد ہوں گے جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو خصوصی رعایت دی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے سولر پاور پر شفٹ ہونے والی صنعتوں کی رفتار کو بریک لگانے اور قومی گرڈ کی بقا کے لیے ایک نئی ٹیرف پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، اس نئی پالیسی کے تحت جو صنعتیں گرڈ کی بجلی کم استعمال کریں گی، انہیں زیادہ فکسڈ چارجز ادا کرنے پڑیں گے۔ذرائع پاور ڈویڑن کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسی کے تحت اس نئے ٹیرف منصوبے کو آئندہ 2 ماہ کے اندر ملک بھر میں نافذ کیے جانے کا قوی امکان ہے، زیادہ بجلی استعمال کرنے والی صنعتوں کو ترغیب دینے کے لیے فی یونٹ سستی بجلی فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، صنعتی بجلی کے نرخوں کو نمایاں طور پر کم کر کے 6 سے 8 سینٹ فی یونٹ تک لایا جا سکتا ہے۔بتایا گیا ہے کہ حکومت نے اس نئے ٹیرف منصوبے کی تفصیلات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی شیئر کر دی ہیں، اس منصوبے پر غور کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے حکومتِ پاکستان سے دو اہم نوعیت کے ڈیٹا بیس مانگ لیے ہیں، جن میں ملک میں بجلی کے موجودہ استعمال کا مکمل ڈیٹا اور قومی گرڈ کو مستقل طور پر چھوڑ کر سولر یا دیگر ذرائع پر منتقل ہونے والی صنعتوں کا تفصیلی ڈیٹا شامل ہے۔معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی منصوبہ بندی کے تحت ابتدائی مرحلے میں اس نئے ٹیرف کا اطلاق صرف اور صرف صنعتی صارفین پر ہی کیا جائے گا، کامیابی کی صورت میں دوسرے مرحلے کے دوران اس پالیسی کا دائرہ کار کمرشل اور گھریلو صارفین تک بھی وسیع کیے جانے کا امکان ہے، حکام کا تخمینہ ہے کہ اس نئی راغب کرنے والی پالیسی کے نفاذ سے ملک میں بجلی کی مجموعی طلب میں ایک ہزار میگاواٹ تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔پاور ڈویڑن کے حکام کا کہنا ہے کہ بہت سی صنعتوں کے سولر پر منتقل ہونے کی وجہ سے قومی گرڈ پر شدید مالی دبائو ہے، لہٰذا قومی گرڈ کے روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے یہ نئی پالیسی انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے، اس پوری پالیسی کا اصل اور واحد مقصد صنعتوں کو دوبارہ اس بات پر راغب کرنا ہے کہ وہ اپنے کارخانوں کو چلانے کے لیے قومی گرڈ کی بجلی کا ہی استعمال کریں۔