بھارتی فلم انڈسٹری میں اداکار سلمان خان کی جانب سے بھیجے گئے ایک لیگل نوٹس کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس میں فلم ’کالاہرن‘ کے پروڈیوسر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے وہ نوٹس کیمرے کے سامنے پھاڑ دیا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور اس پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ’کالاہرن‘ کا حال ہی میں جاری کیا گیا ایک پوسٹر تنازع کی وجہ بنا، جس میں ایک شخص کو بندوق کے ساتھ دکھایا گیا ہے اور اس کے ہاتھ میں موجود بریسلٹ کو بھی سلمان خان سے منسوب طرز کے مشابہ قرار دیا گیا۔ اسی پس منظر میں فلم کے ٹیزر کی ریلیز کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔اس صورتحال پر سلمان خان کی جانب سے فلم سازوں کو قانونی نوٹس بھیجا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ فلم کے تمام پوسٹرز اور تشہیری مواد فوری طور پر ہٹا دیے جائیں۔ نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فلم مبینہ طور پر ان کے ماضی کے ایک کیس سے متاثر ہے، جس سے ان کی شخصی ساکھ متاثر ہونے اور زیرِ سماعت مقدمے پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے اس نوٹس کو دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام انہیں خوفزدہ کرنے اور ان کی آواز دبانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق فلم کے اعلان کے بعد سے انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں بھی موصول ہو رہی ہیں، جن میں بعض سوشل اور غیر قانونی عناصر کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسی تنازع کے دوران امیت جانی کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں انہوں نے کیمرے کے سامنے لیگل نوٹس پھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ اس دباؤ کو قبول نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نوٹس ان کے مطابق غیر ضروری اور ہراسانی کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ یہ تنازع 1998 کے اس واقعے کے پس منظر سے جڑا ہوا ہے جب جودھپور میں فلم شوٹنگ کے دوران کالے ہرن کے شکار کے الزام میں سلمان خان کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا۔ اس کیس میں وہ گرفتار بھی ہوئے، بعد ازاں ضمانت پر رہا ہوئے، اور مقدمہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اب بھی قانونی کارروائی میں ہے۔اسی معاملے سے جڑے تنازع کے باعث ماضی میں بھی انہیں مختلف دھمکیوں اور سیکیورٹی خدشات کا سامنا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر اس کیس اور اس کے اثرات کو میڈیا اور عوامی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔