ویب ڈیسک: پاکستانی وفد کے سربراہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشتگردی کے واقعات کی شفاف تحقیقات کیلئے مشترکہ فورم تشکیل دیا جانا چاہیے۔
چینی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ بندی ایک نازک توازن پر قائم ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے عالمی برداری کا کردار قابل ستائش ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس ایسا پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں وہ اپنے تحفظات اور شواہد پیش کر سکیں۔ انہوں نے پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستانی حدود میں کیے گئے یکطرفہ اور غیرقانونی حملوں پر تنقید کی اور بھارت کو اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی۔انہوں نے زور دیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اس کی جڑوں تک پہنچنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے متعدد دہشتگرد حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔بلاول بھٹو نے مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں بنیادی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے، جسے دنیا نظر انداز نہیں کر سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر موجود تنازعات کے حل کے بغیر دیرپا امن ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، اور پانی کے مسائل پر بامقصد بات چیت دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن صرف سفارتکاری، مذاکرات اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر ممکن ہے، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس عمل میں بھرپور کردار ادا کرے۔