نیتن یاہو بھی ’ڈیپ سٹیٹ‘ کے خلاف صفِ دگر میں شامل

نیتن یاہو بھی ’ڈیپ سٹیٹ‘ کے خلاف صفِ دگر میں شامل

دنیا کی تین بڑی متنازعہ شخصیات—ڈونلڈ ٹرمپ، بنیامین نیتن یاہو اور عمران خان—کے بیانیے اور سیاسی طرزعمل کا ایک زبردست تجزیہ پیش کرتا ہے، جنہوں نے مختلف جمہوری نظاموں میں اپنی ناکامیوں، قانونی مسائل اور عوامی ردعمل کو “ڈیپ سٹیٹ” جیسے غیرمرئی دشمن کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

خلاصہ اور تجزیہ:
1. "ڈیپ سٹیٹ" کا تصور:
“ڈیپ سٹیٹ” ایک ایسا مبہم اور غیر واضح تصور ہے جسے سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں کا جواز دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ دراصل ریاستی اداروں، عدلیہ، میڈیا، اور بیوروکریسی پر مشتمل ایک خیالی طاقت سمجھی جاتی ہے جو پس پردہ حکومتوں کو قابو میں رکھتی ہے۔

2. سارہ نیتن یاہو کا دعویٰ:
سارہ نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ ان کے شوہر کو “بائیں بازو کی بنیاد پرست اشرافیہ” اور “غیر ملکی مفادات” کی مدد سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس رجحان کا تسلسل ہے جس میں سیاستدان خود کو مظلوم اور نظام کو ظالم بنا کر پیش کرتے ہیں۔

3. ٹرمپ، نیتن یاہو، عمران خان:
تینوں رہنما:

مذہبی قوم پرستی پر سیاست کرتے ہیں۔
عدلیہ اور میڈیا کو مخالف سمجھتے ہیں۔
احتساب اور شفافیت کے عمل کو سازش سمجھ کر رد کرتے ہیں۔
اور سب سے اہم: اپنے حامیوں کو ایک مستقل مظلومیت کا بیانیہ دیتے ہیں۔
4. بلاول بھٹو کا تبصرہ:
بلاول کا نریندر مودی کو نیتن یاہو کی “سستی نقل” کہنا اس فہرست میں چوتھے کھلاڑی کی ممکنہ آمد کا پیش خیمہ ہے—ایک ایسا سیاستدان جو ریاستی طاقتوں کی مکمل حمایت کے باوجود اپنی عوامی مقبولیت کھو چکا ہے۔

5. عمران خان کا "لندن پلان":
عمران خان کی جانب سے ہر بحران، ناکامی اور سزا کو “لندن پلان” یا "ڈیپ سٹیٹ" سے جوڑ دینا بھی اسی بیانیے کا حصہ ہے، جس میں اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کیا جاتا بلکہ ہر الزام کو بیرونی/اندرونی سازش کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

 اہم نکتہ:
یہ بیانیہ کہ "ہمیں ناکام کرنے والی ایک غیر مرئی طاقت ہے" اصل میں عوامی احتساب سے بچنے اور اپنی سیاست کو جذباتی فریم میں لپیٹنے کا ہتھیار بن چکا ہے۔

 نتیجہ:
سیاست میں ڈیپ سٹیٹ کا ذکر اکثر صرف سیاسی مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے کے لیے ہوتا ہے۔ جب قیادت کے پاس کارکردگی دکھانے کو کچھ نہ ہو، تو وہ ایک خیالی دشمن کی طرف انگلی اٹھا کر عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹرمپ، نیتن یاہو، عمران خان، اور ممکنہ طور پر مودی—سب اسی بیانیے کی کسی نہ کسی سطح پر قائل اور فائدہ اٹھانے والے ہیں۔