بجٹ میں تمام طے شدہ شرائط پر عملدر آمد کیا جائے، صوبائی حکومتیں اخراجات کم کرنے کے اقدامات کی تحریری ضمانت دیں‘کاروبار کا ماحول بہتر بنانے کے اقدمات کئے جائیں
صوبائی حکومتوں کو رائٹ سائزنگ کر کے نئی ملازمتوں پر پابندی عائد کرنا ہو گی‘ طے کردہ اہداف پر پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ان کا حصول یقینی بنایا جائے
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے آئندہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں تمام طے شدہ شرائط پر عملدر آمد کیا جائے، صوبائی حکومتیں اخراجات کم کرنے کے اقدامات کی تحریری ضمانت دیں۔آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی حکومتیں بجٹ میں کاروبار کا ماحول بہتر بنانے کے اقدمات کو یقینی بنائیں، مرکزی و صوبائی حکومتیں بجلی اور گیس پر کوئی سبسڈی فراہم نہ کریں، صوبائی حکومتوں کو رائٹ سائزنگ کر کے نئی ملازمتوں پر پابندی عائد کرنا ہو گی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ طے کردہ اہداف پر پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ان کا حصول یقینی بنایا جائے، طے شدہ اہداف کے حصول کیلیے صوبے بجٹ کے اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔ بجلی، گیس چوری اور اسمگلنگ روکنے کیلیے وفاق اور صوبے مل کر عملی اقدامات کریں۔آئی ایم ایف نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ صوبے زرعی آمدن اور خدمات پر ٹیکس وصولی کیلئے لائحہ عمل کو بجٹ کا حصہ بنائیں۔آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کی جانب سے منقولہ اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) لگانے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت سونا، نقدی اور دیگر اثاثوں پر سی وی ٹی عائد کرنے کی خواہش مند تھی تاہم یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ایک دن کے چوزوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز بھی مسترد کر دی ہے۔ تاہم، ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس عائد کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس سے حکومت کو 10 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں میوچل فنڈز کی ڈیویڈنڈ آمدن پر ٹیکس کو 20 فیصد تک بڑھانے، سودی آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنے، وینچر کیپیٹل کمپنیوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور سنیما انڈسٹری کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ واپس لینے کی تجاویز زیر غور ہیں