سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
یہ سانحہ اس موقع پرپیش آیاجب پاکستان عسکری اعتبارسے ایک نئے موڑپرکھڑاتھا،اورعلاقائی سیاست کے نقشے بدل رہے تھے۔ جنرل ضیاالحق سوویت یونین کے ٹوٹنے اور چھ حصوں میں تقسیم کے بعدنئی چارمسلم ریاستوں کے قیام کے بعدان تمام ریاستوں سمیت پاک افغان کی شمولیت کے ساتھ نہ صرف ایک عظیم مسلم کنفڈریشن کے خواب دیکھ رہے تھے بلکہ دنیامیں ایک نئی توانامسلم طاقت کے ظہورکیلئے اپناہوم ورک مکمل کرکے اس پرعمل پیراہونے کیلئے اپنی عملی کوششوں کاآغازکرچکے تھے کہ حادثے کی گونج سرحدوں سے آگے
تک پہنچ گئی۔حادثے کے بعدپورے ملک میں سوگ کی فضاچھاگئی اوراقتدارکی بساط بھی نئے اندازسے اس طرح بچھائی گئی کہ جنرل ضیاالحق کامنصوبہ پروازسے پہلے ہی دفن کر دینے کاپیغام پہنچادیاگیا۔
تحقیقات کے باوجودحادثے کی حقیقت پرسوالات قائم رہے ،حادثہ تھایاسازش؟یہ عقدہ پوری طرح کبھی نہ کھلا۔واقعے کے بعدریاستی اداروں نے حادثے کے اسباب تلاش کرنے کی سعی کی،مگرہررپورٹ کے باوجودایک سوال اضطراب کی طرح باقی رہاتحقیقات کے باوجودحادثے کی حقیقت پرسوالات قائم رہے حادثہ تھایاسازش؟یاکوئی پردہ نشین ہاتھ ملوث تھا؟یاپھرآنے والوں کی اقتدارکی مجبوریوں نے اس کی حقیقت سامنے لانے کی ہمت نہیں کی؟یہ عقدہ آج تک پوری طرح کبھی نہ کھلااورنہ ہی مستقبل قریب میں اس کی امیدہے بلکہ وقت کے ساتھ اس واقعے کوعوام کی یاداشتوں سے محوکردیاگیاہے ۔
عالمی میڈیانے مختلف امکانات کی نشان دہی کی مگرسچائی دھوئیں کی طرح اوجھل رہی۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی اس حادثے کے ممکنہ اسباب پرمختلف آراپیش کیں۔کہیں مکینیکل اورفنی خرابی کاذکرہوا،کہیں سازشوں کے تانے بانے بنے گئے مگر تاریخ نے فیصلہ نہ سنایایاپھرتاریخ کوبھی ظلمتوں کے رازافشا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اوراس نے بھی ہمیشہ کی طرح صرف سوالات محفوظ کرلیے۔
یہ سانحہ اس دورمیں پیش آیاجب الخالد ٹینک کے تجربات جاری تھے اورعسکری قیادت اسی پس منظرمیں بہاولپورپہنچی تھی۔الخالد ٹینک کی آزمائش کے پس منظرمیں فوجی قیادت بہاولپورمیں مجتمع تھی۔اسی تناظرمیں یہ فضائی سفراختیارکیاگیاتھاجس نے اب ابدی سفرکی صورت اختیارکرلی۔الخالدٹینک چین اورپاکستان کی مشترکہ سعی کاانتہائی کامیاب نتیجہ تھا اورامریکی ایم ون ابراہم اس کا مدِمقابل۔طاقت،ٹیکنالوجی اورسیاست کے دھاگے ایک دوسرے میں گویاالجھے ہوئے تھے۔جنرل اسلم بیگ بھی اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ اس دورمیں پاکستان اورچین کے اشتراک سے الخالدٹینک کی تشکیل جاری تھی۔امریکی ایم ون ابراہم ٹینک اس کا حریف سمجھاجارہاتھا۔طاقت اورٹیکنالوجی کایہ مقابلہ بھی پسِ پردہ حالات کاحصہ تھا۔
ہندوستان نے بھی ٹینک سازی کاخواب دیکھامگراس کی تمام کوشش ناکام رہیں۔اس ناکامی نے یہ سبق دیاکہ تنہاانحصارنہیں،اشتراک اورحکمت کامیابی کازینہ ہیں۔نتیجہ یہ نکلاکہ صنعت تنہانہیں کھڑی ہوسکتی ،حکمت،تجربہ اوراشتراک اس کے ستون ہیں۔پاکستانی ماہرین نے مختلف ممالک کی ٹیکنالوجی کوجوڑتوڑاورتدبرسے یکجاکرکے الخالدکی شکل میں ایک کارگراورکارآمدٹینک تیارکیایہ محض صرف لوہے کی مشین نہ تھی،جس نے یہ کامیاب رستے نکالے بلکہ ایک قوم کے عزم کی تمثیل تھی۔
جنرل اخترعبدالرحمن نے شکوہ کیاکہ انہیں پہلے گروپ میں کیوں شامل نہیں کیاگیا۔جواب ملااصول یہ ہے کہ تمام سینیئرافرادایک ہی طیارے میں سفرنہیں کرتے لیکن تقدیراورقضاکو یہ اصول بھی منظورنہ تھاتاہم تقدیروقضا کے اصول کچھ اورہوتے ہیںزندگی موت کی امانت ہوتی ہے اوراس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی گوارہ نہیں ہوتی۔آخرکاروہ بھی قضاء کی انگلی تھامے اسی پروازمیں سوارہوگئے تھے۔
17اگست کوجنرل ضیاالحق بہاولپورپہنچے توجنرل اسلم بیگ پہلے سے منتظرتھے۔عسکری وغیرملکی شخصیات اس قافلے میں شامل تھیں۔کسی کوخبرتک نہیں تھی کہ یہ استقبال دراصل ایک الوداعی لمحے کاپیش خیمہ ہے۔کسی کو اندازہ نہ تھاکہ یہ استقبال، دراصل ایک الوداعی اثبات اوردائمی جدائی کاپیش خیمہ بن جائے گا۔خودراقم نے جب جنرل بیگ کاتفصیلی انٹرویوکیا جو آج بھی سوشل میڈیاپرموجودہے،عوام الناس کے ذہنوں میں پائے جانے والے اس حادثے پرکئی سوالات کئے جس کے جوابات آپ وہاں سن سکتے ہیں۔
ٹامے والی فائرنگ رینج میں الخالداورایم ون ٹینک کاعملی مقابلہ ہوا۔الخالد کامیاب رہاگویاملکی محنت کی لاج رکھ لی گئی۔اس کامیابی کی خوشی ابھی ذہنوں میں پوری طرح اتری بھی نہ تھی کہ سانحے کی کالی گھٹاامڈآئی اورحادثے نے سب آوازیں ساکت کر دیں۔آزمائش کے بعدقافلہ واپس بہاولپورروانہ ہوا۔نماز،معمول کی مصروفیتیں جاری تھیں،اورپھر ایئر پورٹ کاقصدزندگی اپنی معمول کی رفتار میں جاری تھی،مگرجہاں وقت کی ریت آخری حد پرپہنچ چکی تھی وہاں تقدیرچپکے چپکے اپنافیصلہ لکھ چکی تھی جس پرقضانے اثبات اوریقین کی مہر لگادی تھی۔
ضیا الحق نے روانگی سے پہلے مسکراتے ہوئے آخری جملہ کہا’’آپ بھی ساتھ چلیں‘‘گویا ایک خاموش وداع تھاجس کی معنویت بعدمیں سمجھی گئی۔یہ دراصل دنیاکی آخری دعوتِ سفر ثابت ہوئی۔وہ جہازمیں سوارہوگئے اورکہانی نے نیاموڑلے لیا۔کچھ ہی دیر بعدپاکستان ون سے رابطہ منقطع ہوا۔ریڈیوخاموش ہوااوردلوں میں بے نام ساخوف اوراندیشے جاگ اٹھے۔وہ خوف جوآنے والے حادثے کی پیشگی آہٹ ہوتاہے۔دورکہیں دھواں اٹھتانظرآیا۔قریب پہنچ کرمعلوم ہواسی130تباہ ہوچکاہے۔آگ کے شعلے آسمان سے ہمکلام تھے اورپھرملبہ،پھر شعلے۔انسانی وجودراکھ ہوکربکھرچکے تھے۔اورپھرتاریخ کاایک باب بندہوگیا۔
جنرل اسلم بیگ نے فیصلہ کیاکہ اقتدارآئین کے مطابق منتقل ہوضمیرنے آوازدی اورقدم نے اس پرلبیک کہا۔جنرل اسلم بیگ کے مطابق فیصلہ کن لمحہ تھااقتدارسنبھالیں یاآئین کے حوالے کریں؟ضمیرنے دستک دی،باپ کی نصیحت یادآئی،اورطے پایاکہ اقتدار عوام کی امانت ہے اوربقول مرزا بیگ کہ انہوں نے اس اہم اورتاریخ سازموقع پرنصیحت پر لبیک کہنے کافیصلہ کرلیا۔چنانچہ آئینی تقاضوں کے مطابق چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کواقتدارمنتقل کرنے کافیصلہ ہوا۔رات دس بجے قوم سے خطاب ہوا،یوں چند گھنٹوں میں نظام حکومت نے خودکونئے سانچے میں ڈھالتے ہوئے دستوری عمل نے خودکوبحال کرلیا۔
شدیدحادثے کے باعث شناخت مشکل ہوگئی تھی۔جوجسدِخاکی کے ٹکڑے اورباقیات میسرآئیں،انہیں جمع کرکے امانت سمجھ کرسپردِ خاک کیاگیا۔بعدکی میڈیکل رپورٹوں میں کسی کیمیکل یازہریلے مادے کی واضح نشاندہی نہ ہوسکی۔شکوک مگرباقی رہے تاہم باوجود شکوک کی راکھ کے نیچے کبھی کبھی چنگاری آج بھی سلگتی محسوس ہوتی ہے۔متعددانکوائریاں قائم ہوئیںملٹری انٹیلی جنس،آئی ایس آئی، ایئر فورس،سب نے اپنی اپنی آنکھ سے حقیقت کودیکھنے کی کوشش کی۔مگرحقیقت نے نہ توکبھی مکمل چہرہ دکھایااورنہ ہی تلاش کیاجاسکا اور نہ ہی کبھی مکمل طورپرمسکرائی ۔بس پردے کے پیچھے سے کئی رازآج تک جھلک رہے ہیں مگران کی حقیقت شائدہی کبھی سامنے آسکے۔تین ہفتوں کے اندراندررپورٹس حکومت کے
حوالے کردی گئیں،اس کے بعدتاریخ نے اپنی گواہی کاباب بندکردیا،اورسیاست نے اپنااگلاباب کھول لیا۔
سی ون تھرٹی چونکہ فضائیہ کے سپردتھا،اس لئے اس کی ذمہ داریاں بھی اسی کے کاندھوں پرتھیں۔سیکیورٹی کے اصول سخت تھے ،تمام اصول اپنی جگہ،حادثہ اپنی جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگرحادثات اصول نہیں دیکھتے،صرف موقع دیکھتے ہیں۔انکوائریوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کسی گیس یاکیمیکل کی واضح نشاندہی نہ ہوسکی۔پائلٹ کی خاموشی،ایس اوایس کانہ دیاجانا، اور اچانک جھکانے سازش کے شکوک کوزندہ رکھامگرثبوت کاہاتھ خالی رہا۔تاہم خاموشی کبھی کبھارسب سے بڑاسوال بن جاتی ہے،اسی لئے سازش کے خدشات کبھی مکمل ختم نہ ہو سکے
بے نظیربھٹواورنوازشریف کے ادوارمیں کمیشن قائم ہوئے،بلکہ بے نظیربھٹونے بندیال کمیشن بنایا،نوازشریف نے شفیع الرحمن کمیشن مگرہرراستہ جاکرحادثہ ہی ثابت ہوا،اورشایدتاریخ نے بھی یہی مناسب سمجھاکہ فیصلہ وقت پرچھوڑدیاجائے،آخری حکم کسی اورعدالت نے سناناہے،فیصلہ آخری عدالت پرچھوڑدیاگیاجہاں بے انصافی کبھی نہیں ہوتی۔
اب رخ اردن کی جانب مڑتاہے۔فروری1977میں شاہ حسین کی اہلیہ ملکہ عالیہ الحسین بھی ایک ہیلی کاپٹرحادثے میں اس دنیاسے رخصت ہوئیں۔اس حادثے نے صرف ایک ملکہ نہیں،کئی ریاستی ستونوں کولرزاڈالا۔اس حادثے میں وزیرِصحت اوردیگرشخصیات بھی ہلاک ہوئیںایک پوراقافلہ لٹا۔گویاقدرت کایہ اعلان سامنے آیاکہ حادثات شاہی محلوں کی دیواروں سے بھی نہیں رکتے۔شاہی خاندان کے محل بھی حادثات کی آندھی سے محفوظ نہیں رہتے۔اس حادثے نے یہ واضح کیاکہ شاہی پروٹوکول،جدیدٹیکنالوجی اور حفاظتی انتظامات بھی تقدیرکی دیوارنہیں گراسکتے۔چالیس دن بعدعمان ایئرپورٹ کوان کے نام سے منسوب کرناقومی یادداشت کا استعارہ بنا۔یادرکھنے کاایک قومی عہد۔گویا ایک قومی خراجِِ عقیدت،جوپتھراورلوہے میں ڈھل کریادگاربن گیا۔(جاری ہے)