سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
عراق کے صدرعبدالسلام عارف بھی اپریل1966میں ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں انتقال کرگئے۔بصرہ کے قریب یہ حادثہ ہوااور ان کے بھائی عبدالرحمان عارف نے اقتدا ر سنبھالا،مختصرحکومت،مگرزیادہ دیرنہ ٹھہرسکے۔بہت سے اہلِ فکرنے اس حادثے کوپراسرارکہاتاریخ نے وہاں بھی سوال چھوڑدیے،جوآج بھی تحقیق کے دروازے پردستک دیتے ہیں۔یہ سب حادثات خطے کی سیاست کوبراہِ راست متاثرکرتے رہے۔
مندرجہ بالایہ اشاریے نہیںیہ تاریخ کے بدنصیب چراغ ہیں جن کی حقیقت نہ صرف پراسراربلکہ ناقابل یقین حدتک دنیاکی نظروں سے مستوررہے گی۔ہرمقتدرچراغ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ طاقت عارضی ہے،پروازمحدودہے اورانجام یقینی ہے۔ان تمام نکات کی یہ رودادہمیں بتاتی ہے کہ آسمان کی وسعتوں میں پروازکرنے والے بھی تقدیرکے ایک اشارے کے محتاج ہیں۔طاقت،اقتدار،شاہی جاہ و جلال،سب کچھ ایک لمحے کی خطایاایک جھٹکے کے ساتھ ریزہ ریزہ ہوسکتاہے۔ کل من علیہافان۔
فضائی حادثات میں عموما درج ذیل عوامل کارفرماپائے جاتے ہیں،موسمی رکاوٹیں دھند،آندھی،برفانی طوفان،مشینی خرابی،انجن فیل، ہائیڈرولک نقص،الیکٹرانک نظام کی ناکامی، انسانی غلطی،تربیت ونگرانی کی کمی لیکن جب مسافروں میں عالمی قیادت شامل ہوتو اس فہرست میں ایک اورعنصرشامل ہوجاتاہے اوروہ ہے سیاسی مفاد،اسی لیے محققین حادثے اور سازش کے درمیان فرق کوہمیشہ کھلارکھتے ہیں اوریہی فرق ان تمام حادثات میں دکھائی دیتاہے۔
جس حادثے میں ریاست کاسربراہ،انٹیلی جنس کاچیف یافوجی کمانڈرہلاک ہوجائے،وہاں حادثہ محض حادثہ نہیں رہتا۔عوامی ذہن میں کچھ سوال مستقل جنم لیتے ہیں۔کس کوفائدہ ہو ا ؟ کیاحفاظتی نظام ناکام تھا؟کیایہ قدرتی واقعہ تھا؟یاطاقت کی بساط پرچلی گئی چال؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سچ ہمیشہ دستاویزمیں محفوظ نہیں رہتاکبھی قبرمیں بھی دفن ہوجاتاہے۔
اس تحقیق سے چندبنیادی حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔قیادت کی موت قوموں کی تقدیرکارخ موڑدیتی ہے،فضائی حادثات جدیدسیاست کے اہم موڑثابت ہوئے۔سائنسی تحقیق کے باوجودبعض سوال غیرحل شدہ رہتے ہیں،طاقت کی معراج بھی انسانی کمزوری کے سامنے بے بس ہوجاتی ہے،تاریخ کے بڑے فیصلے آسمانوں میں بھی لکھے جاتے ہیں۔
بہاولپورکے آسمان سے لے کرعمان کے ہوائی اڈے تک،اردن کی ملکہ عالیہ سے عراق کے صدرعبدالسلام عارف تک ہرحادثہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ اقتدار،قوت اورجاہ وجلال سب پروازکی مانندہیں؛ایک جھونکا،اورسب کچھ ریزہ ریزہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان سب نکات کوآپ کی فراہم کردہ ترتیب کے مطابق محفوظ کیاگیاہے کہیں معاملہ عسکری حکمتِ عملی کاہے،کہیں سیاست کے تخت وتاج کا،اورکہیں انسانی تقدیرکے اس نہ بدلنے والے قانون کا۔ان تمام واقعات کویکجاکرکے دیکھیں توایک دل گرفتہ منظرہماری آنکھوں کے سامنے ابھرتاہے۔ طیاروں کاملبہ،سیاہ دھواں،بین کرتی ہوئی مائیں،خاموش ہوتی ہوئی فوجی چوکیاں،اوراقتدارکے ایوانوں میں پھیلی ہوئی سرد وحشت۔یہ محض افسوسناک حادثات نہیں بلکہ وہ موڑ ہیں جنہوں نے قوموں کی تقدیر بدل دی،سیاسی نقشے الٹ دیے،اورتاریخ کے دھارے کودوسری طرف موڑدیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی استعمارنے ہمیشہ طاقت کے توازن کواپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کی۔کہیں براہِ راست جنگ،کہیں اقتصادی شکنجہ،کہیں حکومتوں کی تبدیلی،اورکہیں ایسے پراسرارحادثات جن کے بارے میں سچ آج تک مکمل ظاہرنہ ہوسکا۔تیسری دنیاکے بہت سے قائدین جب خودمختاری،وسائل پرملکیت،یاعالمی معاشی نظام سے بغاوت کی بات کرتے ہیں تووہ اکثرحادثوں، ہلاکتوں یاسیاسی تنہائی کاشکارہوجاتے ہیں۔
یہ سب کچھ محض داستانیں نہیں،یہ وہ دردناک سچائیاں ہیں جوتاریخ کے سینے میں دفن بھی ہیں اورزندہ بھی۔تاہم تصویرکادوسرارخ بھی موجودہے۔تباہ حال قومیں ہمیشہ ختم نہیں ہوتیں وہ اٹھتی بھی ہیں۔تیسری دنیاآج اپنے زخموں کے ساتھ کھڑی ہے۔غلامی کے طویل ادوار،سازشوں کے گرداب اورحادثات کے طوفانوں کے باوجوداس کے نوجوان
شعور حاصل کررہے ہیں،دانشورقلم اٹھارہے ہیں،اورعوام اپنے حقِ خودارادیت کااعلان کررہے ہیں۔یہ جدوجہدآسان نہیں،مگرتاریخ گواہ ہے کہ جوقومیں روتے ہوئے بھی چلتی رہیں،وہ آخرکارمنزل تک پہنچ گئیں۔
ان فضائی سانحات نے اگرایک طرف قیادتیں چھین لیں تودوسری طرف قوموں کویہ سبق بھی دے دیاکہ آزادی کی قیمت ہوتی ہے، خودمختاری کاراستہ خطرناک ہوتاہے او راستعمار سے ٹکرانے والوں کاانجام اکثرحادثہ لکھاجاتاہے مگریہ بھی حقیقت ہے کہ حادثوں سے تاریخ نہیں رکتی ،صرف صفحہ پلٹتاہے۔
آج تیسری دنیاکے لوگ اپنی بکھری ہوئی قیادتوں کی یادمیں سوگ بھی مناتے ہیں اوراسی یادکواپناحوصلہ بھی بناتے ہیں۔شایدآنے والی صبح انہی آنسوں سے جنم لیاورپھرآسمانوں میں پروازیں ہوں تووہ خوف کی علامت نہیں بلکہ آزادی کی نویدبنیں۔ان سانحات کی واحدمشترکہ روح یہ بتاتی ہے کہ تاریخ صرف واقعات کاسلسلہ نہیں،عبرت کادفتربھی ہے۔ قیادتیں جاتی ہیں،مگرسوال چھوڑجاتی ہیںطاقت کس کی؟اختیارکس کا؟اورانجام کیا؟ان فضائی حادثات کی یہ ہولناک روداد ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ قوموں کی تقدیرکے جہازصرف آسمانوں میں نہیں،دلوں اوراصولوں کے افق پربھی پروازکرتے ہیں۔
نومبر کے دوسرے عشرے کے آخر میں عالمی اقبال کانفرنس کی فکری ساعتیں ابھی جاری تھیں، مکالمے برپا تھے، قافلہ اہلِ دانش رواں تھا کہ اسی دوران محترم حافظ طاہر صاحب سابق سیکرٹری ہائر ٹیکنیکل ایجوکیشن صوبہ بلوچستان اور حالیہ او ایس ڈی نے نہایت محبت و شفقت اور بے حد اصرار سے مجھے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر لے گئے ،وہی رہائش گاہ جہاں آج کل وہ اپنی دیانت کی سزا کے بقیہ دن سکوت کے ساتھ کاٹ رہے ہیں۔ وہاں کی فضا میں ایک عجیب وقار، سنجیدگی اور خاموش احتجاج گھلا ہوا تھاایسا لگتا تھا جیسے دیواریں بھی گواہ ہوں کہ بعض اوقات سچ بولنے کا سب سے بڑا انجام تنہائی اور جرم ٹھہرتا ہے۔
لیکن جس چیز نے میرے دل کو واقعی ہلا دیا، وہ ان کے دروازے کے باہر آویزاں ایک سادہ سی تختی تھی جس پر یہ آیت لکھی تھی:
وماالحیاۃ الد نیا الامتاع الغرور۔۔۔۔۔اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا ایک ساز و سامان ہے۔
میں دیر تک اس تختی کو تکتے ہوئے سوچتا رہایوں لگا جیسے یہ الفاظ پتھر پر نہیں، میرے دل پر لکھے جا رہے ہوں۔ کاش ہم اس پیغام کو محض پڑھیں نہیں، اس میں اتر کر خود کو پرکھ سکیں؛ شاید تب ہمیں معلوم ہو کہ اصل سزا کیا ہے اور اصل انعام کس کا نام ہے۔ کاش ہم کبھی ٹھہر کر اپنے رب کے اس کلام میں اتر سکیں، اپنے آپ کو تول سکیں، اور جان سکیں کہ ہم نے زندگی کو کس دھوکے کے عوض بیچ رکھا ہے۔ اس ایک جملے نے یوں اندر تک لرزا دیا کہ دل نے پہلی بار یہ خواہش کی ،کاش ہم اپنے رب کے اس پیغام میں اتر کر خود اپنا محاسبہ کر سکیں؛ شاید تب ہمیں معلوم ہو کہ اصل خسارہ کیا ہے اور اصل کامیابی کس کا نام ہے۔
فضائی حادثات میں بکھرتی قیادتیں، ٹوٹتی سلطنتیں، بدلتے تخت و تاج، سب اسی ایک سچ کی شرح ہیں۔اقتدار ہو یا شہرت، سب کچھ ہوا کے ایک جھونکے کا محتاج ہے۔دل نے آہستہ سے کہا:کاش ہم اپنے رب کے اس پیغام میں اتر کر اپنا محاسبہ کر سکیں؛کاش ہمیں یہ ادراک ہو جائے کہ اصل پرواز روح کی پرواز ہے،اور باقی سب کچھ صرف دھوکے کی چمک ہے۔اسی لمحے یہ آیت دل میں گونجی:
کل نفس ذائِقۃ الموتِ۔۔۔۔۔ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
اور پھر یہ حقیقت اور بھی روشن ہو گئی کہ تاریخ کے ایوانوں میں گرنے والی قیادتیں،اور آسمانوں میں ٹوٹنے والے جہاز،فضائی حادثات میں بکھرجانے والا اقتدارہمیں یہ سبق دے جاتے ہیں کہ پروازلمبی ہوسکتی ہے مگرابدی نہیں۔اقتدار بلندہو سکتاہے مگرلافانی نہیں۔
یہ مقالہ دراصل انسانی تقدیراورطاقت کے رشتے کی رودادہے۔کاش۔۔۔۔۔۔اے کاش،ہم قضاکے اس فیصلے سے قبل عبرت ہی حاصل کر لیں۔