پارٹی میں افراتفری یا بے چینی کی وجہ فیصلہ سازی کا فقدان ہے، سیاسی قیادت کی ملاقاتوں سے بہتری آسکتی ہے :رکن قومی اسمبلی
پارٹی اس وقت دھڑے بندی کی متحمل نہیں ہوسکتی، ،عمران خان جس کو بھی ذمہ داری دیں گے ہم ان کو سپورٹ کریں گے:انٹرویو
اسلا م آباد(آئی این پی ) پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ سیاسی قیادت کی عمران خان سے ملاقاتیں ہوں تو فیصلہ سازی اور دیگرچیزیں بہتر ہوسکتی ہیں، پارٹی میں افراتفری یا بے چینی کی وجہ فیصلہ سازی کا فقدان ہے ۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سینئر لیڈرشپ جیلوں میں ہے، وزیراعلی کے پی دورے پر پنجاب میں گئے تو ان کا پروٹوکول ہے، ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، لیکن اس کے برعکس فسطائیت اس قدر ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کوئی سرگرمی نہیں کرسکتے۔عمران خان جس کو بھی ذمہ داری دیں گے ہم ان کو سپورٹ کریں گے۔انہو ں نے کہا پارٹی میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے، ہر کوئی اپنا کردار ادا کررہا ہے، پارٹی اس وقت دھڑے بندی کی متحمل نہیں ہوسکتی، ہمیں اس عہدوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہئے۔بیرسٹر گوہر اپنا کردار ادا کررہے ہیں، وہ عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں، کسی کے پاس سینئر لیڈرشپ کو سائیڈ لائن کرنے کا اختیار نہیں۔ اگر سیاسی قیادت کی عمران خان سے ملاقاتیں ہوں تو بہت ساری چیزیں بہتر ہوسکتی تھیں، سوا سال سے سیاسی قیادت کو ملنے ہی نہیں دیا گیا، تاکہ عمران خان کو کوالٹی سیاسی ان پٹ نہ مل سکے۔ اس وقت پارٹی میں افراتفری یا بے چینی جو نظر آرہی ہے ، اس کی وجہ فیصلہ سازی کا فقدان ہے،اگر سیاسی قیادت عمران خان سے ملاقات کرے گی تو فیصلہ سازی میں بہتری آجائے گی۔