ہ طویل المدتی ٹیکس مقدمات مالی گنجائش کو محدود اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں، ٹیکس مقدمات میں تاخیر سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے
جسٹس یحییٰ آفریدی کی اہم ٹیکس مقدمات کے جلد فیصلوں کی حکمتِ عملی پر اعلی سطح اجلاس کی صدارت، زیادہ مالیت کے ٹیکس کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے پر اتفاق
اسلا م آباد(آئی این پی )چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ قومی معیشت پر اثر انداز ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلے عدالتی ترجیح ہوں گے۔چیف جسٹس کی زیرِ صدارت اہم ٹیکس مقدمات کے جلد فیصلوں کی حکمتِ عملی پر اعلی سطح اجلاس منعقد ہوا ۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، چیئرمین ایف بی آر، ممبر لیگل ایف بی آر اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ طویل المدتی ٹیکس مقدمات مالی گنجائش کو محدود اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی معیشت پر اثر انداز ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلے عدالتی ترجیح ہوں گے۔ ٹیکس مقدمات میں تاخیر سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔اعلامیہ کے مطابق طویل عرصے سے زیرِ التوا اور بھاری مالیت کے ٹیکس تنازعات کے حل پر تفصیلی غور کیا گیا، زیادہ مالیت کے ٹیکس کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں عدلیہ اور ٹیکس حکام کے درمیان بہتر رابطہ اور ہم آہنگی پر زور دیا گیا، ٹیکس مقدمات میں یکسانیت اور تیز رفتار فیصلوں کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر غور کیا گیا۔