یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے فرانسیسی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری چار سالہ جنگ میں تقریباً 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں فوجی تاحال لاپتہ ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں پیشہ ور فوجی اور جبری بھرتی کیے گئے اہلکار شامل ہیں، تاہم لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔صدر زیلنسکی کے یہ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب یوکرین پر روس کے حملے کو چار سال مکمل ہو گئے ہیں اور متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی میں جنگ بندی کے لیے اہم مذاکرات جاری ہیں۔تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ روس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025 میں روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ ختم کر سکیں۔ اس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں۔ابو ظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے مسائل پر دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔