آن لائن گیمنگ کی لت اور والدین کی جانب سے مخالفت کے بعد زندگی ختم کی
بلڈنگ سے گرنے کی آواز اتنی زور دار تھی کہ رہائشی کمپلیکس کے افراد جاگ گئے
بہنوںنے والدین سے معذرت کرتے اپنی گیمنگ سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے
نئی دہلی (آئی این پی )بھارتی ریاست اترپردیش کے شہرغازی آباد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں 3 کمسن بہنوں نے مبینہ طور پر آن لائن گیمنگ کی لت اور والدین کی جانب سے مخالفت کے بعد 9 ویں منزل سے کود کر اجتماعی خودکشی کر لی۔بھارتی میڈرپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد بچیوں کا 8 صفحات پر مشتمل ایک نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے والدین سے معذرت کرتے ہوئے اپنی گیمنگ سرگرمیوں کی تفصیل بیان کی ہے۔ بچیوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پوری ڈائری ضرور پڑھیں کیونکہ اس میں لکھی ہر بات سچ ہے۔ نوٹ میں لکھا گیا تھا کہ اس ڈائری میں جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب پڑھ لو کیونکہ یہ سب سچ ہے،ابھی پڑھو! مجھے بہت افسوس ہے،سوری پاپا، اس جملے کے ساتھ ایک روتا ہوا ایموجی بھی بنایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق بچیوں کے کمرے کی دیوار پر بھی ایک جملہ لکھا ہوا ملا کہ میں بہت، بہت اکیلی ہوں۔ خودکشی کرنے والی بہنوں کی 12 سالہ شناخت پاکھی، 14 سالہ پراچی اور16 وشیکا کے نام سے ہوئی ہے، جو چیتن کمار کی بیٹیاں تھیں۔ واقعہ بھارت سٹی نامی رہائشی ٹائو ن شپ میں رات تقریبا 2 بجے پیش آیا، جہاں بچیوں نے کمرہ اندر سے بند کر کے باری باری کھڑکی سے چھلانگ لگا دی۔ 9ویں منزل سے گرنے کی آواز اتنی زور دار تھی کہ رہائشی کمپلیکس کے متعدد افراد جاگ گئے، سکیورٹی عملہ اور مکین موقع پر پہنچے، تاہم جس وقت تک اہلِ خانہ دروازہ توڑ کر کمرے میں داخل ہوتے، تینوں بہنیں چھلانگ لگا چکی تھیں۔ بچیوں کو فوری طور پر لونی کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچیاں ایک آن لائن ٹاسک بیسڈ کورین گیم کی عادی تھیں، جس کی لت انہیں کورونا وبا کے دوران لگی۔ واقعے پورے علاقہ میں سوگ کی فضا چھا گئی ۔