واشنگٹن (آئی این پی )سیٹلائٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کی روشنی کا اثر خلا کی تحقیق میں ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔خلا میں سیٹلائٹس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کا فائدہ تو زمین پر رہنے والوں کو ہو رہا ہے، جیسے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت مل رہی ہے، مگر یہ خلا میں موجود ٹیلی اسکوپس کے کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق نئی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ خلا میں اتنی زیادہ سیٹلائٹس کی روشنی سے خلا کے مشاہدات پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔2019 میں خلا میں تقریبا 2,000 سیٹلائٹس تھے، لیکن اب ان کی تعداد 15,000 تک پہنچ چکی ہے۔ اس میں سے زیادہ تر سیٹلائٹس ایلن مسک کے اسٹار لنک نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ اور آئندہ برسوں میں ان کی تعداد تقریبا 5 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ناساکی تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ خلا میں یہ سیٹلائٹس بہت زیادہ روشنی پیدا کرتے ہیں، جو ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اور SPHEREx جیسے خلا میں موجود ٹیلی اسکوپوں کی تصاویر کو خراب کر دیتی ہیں