وفاقی حکومت نے مالی مطالبات کے بجائے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں‘ سندھ نے وفاق کو اخراجات کی تفصیل دینے سے انکار کردیا، یہ ریونیو کا فورم ہے اخراجات کا نہیں : وزیراعلیٰ مراد علی شاہ
دہشت گردی کیخلاف جنگ کا حصہ 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کیا جائے، صوبے کا مجموعی شیئر 14.62 فیصد کے بجائے 19.62 فیصد ہونا چاہیے‘سابق فاٹا کو شامل کیا جائے:خیبرپختونحوا حکومت کے مطالبات
این ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں، خدشات کا حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے،امید ہے صوبے ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے:وفاقی وزیر خزانہ کا افتتاحی اجلاس سے خطاب
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)گیارہویں این ایف سی اجلاس میں وسائل کی تقسیم پر ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وفاق نے مالی مطالبات کے بجائے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں جس پر سندھ نے تفصیلات دینے سے انکار کردیا، صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی بات نہیں ہوئی مگر ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں کا 5 فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی۔گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن کے افتتاحی اجلاس میں سندھ اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ بطور صوبائی وزیر خزانہ شریک ہوئے جب کہ بلوچستان اور پنجاب کے وزرائے خزانہ اور پرائیویٹ ارکان بھی اجلاس میں شریک تھے۔قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے وفاقی مالی معاملات پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد چاروں صوبوں کی جانب سے بھی صوبائی مالی صورت حال پر اجلاس کے شرکا کو تفصیلی بریفنگ دی گئیاجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے ورکنگ گروپ قائم کیا جائے، صوبوں میں ٹیکس وصولی کے معاملے پر بھی ورکنگ گروپ قائم ہوگا، سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام اور فنڈز کے تعین پر گروپ بنے گا۔وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے معاملے پر اٹارنی جنرل سے رائے لینے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی حکومت نے مالی مطالبات کے بجائے صوبوں سے اخراجات کی تفصیلات مانگ لیں تاہم این ایف سی اجلاس میں سندھ نے وفاق کو اخراجات کی تفصیل دینے سے انکار کردیا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے موقف پیش کیا کہ یہ ریونیو کا فورم ہے اخراجات کا نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے فی الحال صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی کی بات نہیں کی مگر ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں میں سے پانچ فیصد صوبوں کو دینے کی مخالفت کردی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا حکومت نے 11ویں این ایف سی میں سابق فاٹا کی شمولیت کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کا حصہ 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کیا جائے اور صوبے کا مجموعی شیئر 14.62 فیصد کے بجائے 19.62 فیصد ہونا چاہیے۔صوبائی حکومت نے صوبے نے آئین کے آرٹیکل 161 سے متعلق مسائل حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی کے فارمولے میں ترمیم کی سفارش کی ہے اس کے علاوہ گیس پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی میں نظرثانی کی بھی سفارش کر دی ہے۔خیبر پختوانخواہ کی ونڈ فال لیوی سے متعلق تنازعات حل کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، کے پی نے این ایف سی اجلاسوں کیلئے ماہانہ شیڈول بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہااین ایف سی کے حوالے سے قیاس آرائیوں اور خدشات کا بہترین حل مخلصانہ اور شفاف مکالمہ ہے۔۔ ہماری پہلی ترجیح ایک دوسرے کی بات سننا ہے۔ وفاقی حکومت یہاں صوبوں کے مؤقف کو سننے کے لیے موجود ہے۔ مجھے امید ہے کہ صوبے بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری تعاون کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔ صوبوں کی جانب سے نیشنل فِسکل پیکٹ پر دستخط انتہائی قابلِ قدر ہے۔ یہ ہمارے مشترکہ عزم اور قومی مفاد میں مل کر کام کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ صوبوں کی جانب سے لازمی سرپلسز کے حصول اور آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر تعاون قابلِ تحسین ہے۔