اسرائیلی فورسز کا بچوں کے رونے کی آوازیں استعمال کر کے فلسطینیوں کو نشانہ بنانا

اسرائیلی فورسز کا بچوں کے رونے کی آوازیں استعمال کر کے فلسطینیوں کو نشانہ بنانا

اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک انتہائی شرمناک اور انسانیت سوز حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز کے کواڈ کاپٹر ڈرونز میں بچوں کے رونے اور پریشان خواتین کی آوازیں چلائی جا رہی ہیں۔ یہ آوازیں فلسطینیوں کو کیمپوں سے باہر نکالنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، تاکہ انہیں کھلے علاقوں میں لایا جا سکے اور پھر نشانہ بنایا جا سکے۔انسانی حقوق کی رکن ماہا حسینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اپریل کے وسط میں انہیں اطلاع ملی کہ اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز میں غیر معمولی آوازیں چلائی جا رہی ہیں، جن میں بچوں اور خواتین کی رونے کی آوازیں شامل ہوتی ہیں۔ ح

سینی نے مزید کہا کہ جب وہ نصیرات کیمپ گئیں اور فلسطینیوں سے بات کی، تو تقریباً تمام افراد نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ان آوازوں کو سن کر باہر نکلے تھے، تاہم یہ آوازیں انہیں اسرائیلی فورسز کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں فلسطینی افراد ان آوازوں کی طرف مدد کے لیے باہر نکلے اور پھر اسرائیلی فورسز کے حملے میں جان سے گئے یا زخمی ہو گئے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی ایک اور شکل ہے، بلکہ یہ انسانیت کی تذلیل بھی ہے۔