ایران کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.7 ریکارڈ کی گئی۔
زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ جھٹکوں کے باعث لوگ خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس زلزلے سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پچھلے زلزلے اور قیاس آرائیاں:
اس سے قبل 5 اکتوبر کو ایران کے صوبے سمنان میں 4.5 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ اس زلزلے کے بارے میں قیاس آرائیاں کی گئیں کہ یہ ایران کے ممکنہ جوہری تجربے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس کی کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل:
سوشل میڈیا پر صارفین نے گراف اور نقشوں کی مدد سے دعویٰ کیا کہ یہ زلزلہ زیرزمین جوہری ہتھیار کے دھماکے کی وجہ سے ہو سکتا ہے، یا ایران نے روایتی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے دشمنوں کو ڈرانے کے لیے جعلی ایٹمی تجربہ کیا ہو سکتا ہے۔
مغربی ممالک اور جوہری پروگرام:
مغربی ممالک وقتاً فوقتاً ایران پر جوہری پروگرام چلانے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک نے کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ شاید غیر مؤثر ہو کیونکہ ان کا پروگرام بہت ترقی کر چکا ہے۔یہ زلزلہ اور اس کے ساتھ موجود قیاس آرائیاں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کرتی ہیں۔ تاہم موجودہ زلزلے کے بارے میں حکومتی اور آزاد ذرائع کی جانب سے جوہری تجربے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔