بٹ کوائن نے کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل عبور کرتے ہوئے 101,170.6 ڈالر کی حد پار کر لی ہے۔
پاکستانی روپے میں بٹ کوائن کی موجودہ قیمت تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد ہو چکی ہے۔
تاریخی پس منظر:
بٹ کوائن کو 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا، جب اس کی قیمت صفر تھی۔ پہلی بار اکتوبر 2010 میں اس کی قیمت 0.10 ڈالر سے بڑھ کر 0.20 ڈالر ہوئی۔ 2011 میں یہ ایک ڈالر کی حد پار کر کے جون میں 29.60 ڈالر تک پہنچا، لیکن بعد میں مارکیٹ میں کمی آئی اور سال کے اختتام پر قیمت 5.2 ڈالر رہ گئی۔
حالیہ اضافہ:
2024 کے آغاز سے ہی بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جب فروری میں اس نے 60,000 ڈالر کی حد عبور کی۔
مارچ 2024: 70,184 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔
نومبر 2024: ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد قیمت میں مزید تیزی آئی۔7 نومبر: 76,999 ڈالر۔
10 نومبر: 80,000 ڈالر۔
13 نومبر: 91,000 ڈالر۔
22 نومبر: 99,555 ڈالر۔
موجودہ صورتحال:
5 دسمبر 2024 کو بٹ کوائن کی قیمت 101,170.6 ڈالر کی سطح سے تجاوز کر گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ ماہرین اس غیر معمولی اضافے کی وجہ عالمی معاشی حالات اور کرپٹو کرنسی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا تجزیہ:
ماہرین کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے اور کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان نے بٹ کوائن کی قیمت میں اضافے کو فروغ دیا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور بٹ کوائن کی کارکردگی کا موازنہ کیا جا رہا تھا، جہاں بٹ کوائن نے بالآخر بازی لے لی۔
نتیجہ:
بٹ کوائن کی اس کامیابی نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو ایک نئی سمت دی ہے، جبکہ سرمایہ کار اسے مستقبل کی اہم سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔